کچھ قابل غور باتیں۔

سالہاسال سے انسانی علم کی وسعت میں اضافی آ رھا ھے اور آ ج کے دور میں کسی بھی علم کے لیے خاص دلچسپی اور متحبس ذہن رکھنے والے افراد اعلی تعلیم یافتہ پروفیسروں اور سا ئنسدانو کی شکل میں موجود ہیں موجودہ دور میں ایک عام آدمی بھی سائنسی تحقیق کے مختلف شعبوں کے متعلق کچھ نہ کچھ معلومات رکھتا ہے جبکہ ماضی میں سائنسی تحقیقات اور فنون پر دسترس معدودے چند ماہرین تک ہی محدود تھی۔اگر آ ج کل علم کی حدود وسیع اور حصول آ سان ہو چکا ہے تاہم آ ج بھی اکثر لوگ اپنی اہم ترین شے یعنی اپنے جسم کے متعلق زیادہ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے اور اس کی اندرونی ساخت سے واقف نہیں ہیں ۔نیز اس کے مختلف حصوں کی مربوط وہم آ ہنگ کارکردگی کے عمل کا فہم بھی محض چند لوگوں تک ہی محدود ہےجو شخص اپنی کار کے پرزوں کی میکانیت سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا جگر جسم کے کس حصے میں واقع ہے اور یہ کیا فعل سر انجام دیتا ہے بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اسانی جسم کی تشریح اور عضویات کا مطالعہ صرف ان مضامین کے ذہین طلباء ہی کے بس کا روگ ہے ایک عام یا طبعی انسان کا تصور دراصل مشترک حیاتیاتی دریافتوں کی ایک مخلوط تصویر ہے۔ جب اعضاء اور عضویاتی ساختوں کا ایک مجموعہ جو کام اور ردِعمل کے اعتبار سے باہمی طور پر مربوط ہو اور یہ سب اعضاء جسم کے بنیادی حیوی عمل کے لیے اپنا مخصوص فعل سر انجام دیں تو ایک نظام وجود میں آ تا ہے انسانی جسم کو بعض معاملات میں مختلف ریاستوں پر مشتمل ایک ملک سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے جیسے کسی بھی ریاست کی اکائی فرد ہوتا ہے اسی طرح جسم کی بنیادی ا کائی خلیہ ہے تاہم فرد اور خلیے کی یہ مشابہت اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب ہم اعضاء کے کردار کی بات عملی نظاموں کے حوالے سے کرتے ہیں نظام تنفس ان اعضاء اور عضویاتی ساختوں کا مجموعہ ہے جو ناک سے پھیپھڑوں تک موجود ہیں ان کا کام جسم کے اندر ہوا سانس کو اور پھیپھڑوں سے مختلف گیسیں مثلاً کاربن ڈائی آکسائڈ وغیرہ خارج کرنا ہے۔انسانی جسم خلیوں ،بافتوں، اعضاء اور مختلف نظامات اور انتہائی منظم بےمثال خصائص کا حامل ہوتا ہے۔