نور ہیلتھ لائف

Noor Health Life

ذیابطیس کے مریضوں کے لیے خوشخبری سائنس دانوں نے مصنوعی لبلبہ تیار کرلیا جو شوگر کا مسقتل علاج ہے!
مصنوعی لبلبہ انسان کے ہاتھ کی ایک ایسی ایجاد ہے جسے خاص اس لیے ایجاد کیا گیا ہے تاکہ یہ خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے پر خودکار طریقے سے خون میں انسولین چھوڑ سکے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی لبلبہ ذیابطیس ٹائپ ون اور ٹو کے مریضوں کے لیے ذیابطیس کا مستقل علاج ثابت ہوگا۔
مصنوعی لبلبہ کی اقسام
1کلوزڈ لوپ مصنوعی لبلبہ
2بائیونک مصنوعی لبلبہ
3امپلانٹ مصنوعی لبلبہ
1کلوزڈ لوپ مصنوعی لبلبہ
اس مصنوعی لبلبے کو اب تک بڑے پیمانے پر مختلف افراد میں لگایا گیا ہے اور کیمبرج یونیورسٹی اس پر لمبے عرصے سے اپنی ریسرچ جاری رکھے ہُوئے ہے اور جن افراد میں اس کو ٹیسٹ کیا جا رہا ہے اُن میں اس سسٹم سے مثبت نتائج مل رہے ہیں ۔ یہ لبلبہ گرم انسولین پمپ کے ساتھ جسم کے بیرونی حصے پر پیچ کی طرح لگا دیا جاتا ہے اور یہ پیچ خون میں شوگر کی مقدار کو جانچتا رہتا ہے اور شوگر کے رزلٹس کو ایک چھوٹے کمپیوٹر میں منققل کر دیتا ہے جہاں سے کمپیوٹر اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کتنی انسولین خون میں انجیکٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لبلبے کو بنانے والی دو اور کمپیناں میڈرونک اور بائیوفارماسوٹیکل بھی اس لبلبے پر اپنی تحقیق جاری رکھے ہُوئے ہیں اور بائیو فارما نے 2015 میں اس طرح کے ایک لبلبے کو منی میڈ 640 جی کے نام سے لانچ کیا ہے جس سے کافی مثبت نتائج مل رہے ہیں۔
2بائیونک مصنوعی لبلبہ
یہ لبلبہ 2015 میں متعارف کروایا گیا جسے خاص طور پر ٹائپ 1 ذیابطیس کے مریضوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اسے بیٹا بائیونک فرم کے سائنسدان ڈاکٹر ایڈورڈ نے ڈیزائن کیا ہے جو خود کار طریقے سے خون میں انسولین اور گلوکاگون پروڈیوس کرتا ہے۔ اس لبلبے کا پمپ آئی فون کے ساتھ بلیوٹوتھ ٹیکنالوجی کے ذریعے منسلک کر دیا جاتا ہے اور آئی فون میں موجود اس کی ایپ اس بات کا حساب لگاتی ہے کہ خون میں کتنی انسولین کی ضرورت ہے اور یہ مشین ہر پانچ منٹ کے بعد خون کو چیک کر کے جسم میں انسولین داخل کرتی ہے جس سے ٹائپ ون کے مریض خاص طور چھوٹے بچے جو اس بیماری کا شکار ہیں فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لبلبے کا ایک ماڈل 2018 میں امریکہ میں ایف ڈی اے سے اپروو ہو چکا ہے اور امید کی جاری ہے کہ اس کا پورا ماڈل بھی جلد ہی ایف ڈی اے میں قبول کر لیا جائے گا۔
3امپلانٹ مصنوعی لبلبہ
یہ لبلبہ جسم کے اندر لگایا جاتا ہے اور یہ ایک خاص قسم کی جیل سے بنا ہے یہ جیل خون میں شوگر لیول بلند ہونے پر انسولین چھوڑنے کی مقدار بڑھاتی ہے اور جب خون میں شوگر لیول کم ہوتا ہے تو یہ انسولین چھوڑنے کی مقدار کم کر دیتی ہے اور اس جیل میں انسولین کو دوبارہ ری فیل کیا جا سکتا ہے۔ اس لبلے کو بنانے والے ڈیمونٹ فورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس لبلبے پر ان کی تحقیق جاری ہے اور امید کی جارہی کہ بہت جلد یہ لبلبہ لیبارٹری ٹرائل کے لیے تیار ہو جائے گا۔
یہ لبلبہ کب سب کے لیے دستیاب ہوگا
مصنوعی لبلبے کی اوپر دی گئی تینوں اقسام پر ماہرین کی تحقیق جاری ہے اور کلوزڈ لوپ لبلبہ اپنے لیبارٹری ٹرائل مکمل کر چُکا ہے اور امید کی جا رہی ہے کے عنقریب یہ سب کے لیے میسر ہو جائے گا۔ مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے نور ہیلتھ لائف سے رابطہ کریں ۔ noormedlife@gmail.com

Leave a Comment

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s