دل کی دھڑکن کے تیز ہونے پر کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیۓ

Noor Health Life

   دل کی دھڑکن زندگی کی علامت ہے ۔ یہ دھڑکن جب بے ربط ہو جاتی ہے تو انسان کے احساسات اس کو اس بات کی آگاہی دینے لگتے ہیں کہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے ۔ دل کی دھڑکن کا تیز ہونا بعض اوقات بے ضرر ہوتا ہے اور کسی معمولی سے مسلے کے سبب ہوتی ہے جو کہ وقت کے گزرنے کے سبب ٹھیک ہو جاتی ہے. لیکن بعض صورتوں میں دھڑکن کا بے ربط ہونا ، کبھی تیز اور کبھی سست ہونا کچھ خطرناک بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتی ہے .جس کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے

   وجوہات

   عام طور پر  دھڑکن کے بے ربط ہونے کی وجوہات کچھ اس طرح ہو سکتی ہیں

   بہت زیادہ ورزش کی صورت میں ، زیادہ کیفین کے استعمال کے سبب ذہنی دباؤ یا پریشانی کی صورت میں ، خوف ، پریشانی یا کم خوابی ، ہارمون کے نظام میں بے ترتیبی ، پانی کی کمی ، خون میں شوگر کی مقدار کا لو ہونا یا جسم میں خون یا آکسیجن کی کمی ہونا ، دل کے امراض یا ان کے والو میں خرابی ، فلو اور سانس کی ادویات کا سائڈ افیکٹ ۔ یہ تمام وہ وجوہات ہو سکتی ہیں جس کے سبب دل کی دھڑکن بے ربط ہو سکتی ہے

   اگرچہ ان میں سے ویادہ تر وجوہات خطرناک نہیں ہیں لیکن  دھڑکنوں کی بے ربطی کچھ خطرناک بیماریوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں. جن میں دل کی خرابی ، والو کا خراب ہونا یا اچانک ہارٹ کا فیل ہو جانا شامل ہے

   دل کی دھڑکن کے تیز ہونے پر کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیۓ

   اگر اّپ دل کی بیماری میں مبتلا ہیں اور  دھڑکن بے ربط محسوس ہو رہی ہے تو آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیۓ، اس کے علاوہ اگر آپ کے دل کی دھڑکن کی بے ربطی کے ساتھ کچھ دیگر علامات بھی ہوں تو اس صورت میں بھی فورا ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے ۔ دیگر علامات یہ ہو سکتی ہیں

   کمزوری ، غنودگی ،چکر آنا یا بے ہوشی ،بہت زیادہ پسینے کے ساتھ سانس لینے میں دشواری ، سینے پر دباؤ اور گھٹن ، بائیں بازو ، سینے ، گردن اور کمر کے اوپر والے حصے میں درد ، دل کی دھڑکن کا ایک منٹ میں 100 سے زیادہ ہو جانا

   ان تمام علامات یا ان میں سے کچھ علامات کے ساتھ اگر  دھڑکن بے ربط ہو, تو بغیر وقت ضائع کیۓ ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہۓ

   دل کی دھڑکن کے بے ربط ہونے کی وجہ کی تشخیص

   دھڑکن کے بے ربط ہونے کی وجہ کی تشخیص اس وجہ سے کسی حد تک دشوار ہوتی ہے, کہ جس وقت اگر آپ ڈاکٹر کے پاس جائيں. اور اس وقت دل کی دھڑکن بے ربط نہ ہو. تو ڈاکٹر اس کی وجوہات کی تشخیص درست انداز میں نہیں کر سکتا ہے .اس کے لیۓ اس کو کچھ ٹیسٹ کرنے پڑتے ہیں جن کے بعد ہی وہ دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کی وجوہات جان سکتا ہے

   علاج

   اس کے علاج کے لیۓ ضروری ہے کہ اس کی درست وجوہات کی تشخیص کی جا چکی ہو ,اس کے بعد ہی اس کا علاج کیا جا سکتا ہے .تاہم اگر آپ کا طرز زندگی غیر صحت مند ہے. اور آپ تمباکو نوشی کر تے ہیں تو آپ کو اپنے غیر صحت مند طرز زندگی کو ختم کرنا ہو گا .تب ہی اس مسلے کا کوئي حل نکل سکتا ہےدل ایک منٹ میں کتنی بار دھڑکنا چاہیے؟

  صحت مند دل فی منٹ کتنی بار دھڑکتا ہے

  کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ دل ایک منٹ میں کتنی بار دھڑکتا ہے؟ یا کتنی بار دھڑکنا چاہیے؟

  آسان الفاظ میں صحت مند دل فی منٹ کتنی بار دھڑکتا ہے، اس بارے میں کوئی اندازہ ہے؟

  اگر نہیں تو جان لیں کہ بالغ افراد میں پرسکون حالت میں دل کی دھڑکن کی رفتار 60 سے 100 کے درمیان ہونے کو نارمل سمجھا جاتا ہے۔

  نور ہیلتھ زندگی کے مطابق عام طور پر آرام کی حالت میں دل کی دھڑکن کی سست رفتار دل کے موثر افعال اور شریانوں کی اچھی فٹنس کی علامت ہوتی ہے۔

  مثال کے طور پر ایک تربیت یافتہ ایتھلیٹ کی دل کی دھڑکن پرسکون حالت میں 40 فی منٹ ہوسکتی ہے۔

  اپنے دل کی دھڑکن کی رفتار جاننے کے لیے بس نبض پر 2 انگلیاں رکھیں یا نرخرے کے سائیڈ میں شہادت اور دیگر تین انگلیوں کو رکھیں۔

  جب نبض محسوس ہو تو دھڑکن کے نمبروں کو 15 سیکنڈ تک گن لیں اور پھر اسے 4 سے ضرب دے کر آپ جائیں گے کہ فی منٹ دل کتنی بار دھڑک رہا ہے۔

  ویسے کئی عناصر بھی دل کی دھڑکن کی رفتار پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسے عمر، فٹنس اور جسمانی سرگرمیاں، تمبا کونوشی کی عادت، ذیابیطس یا کولیسٹرول کا مرض، گرم موسم، جسم کی پوزیشن، جذبات، جسامت اور ادویات وغیرہ۔

  اگر آپ کے دل کی دھڑکن غیرمعمولی طور پر بہت زیادہ یا کم ہے تو یہ کسی مسئلے کا عندیہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

  اگر دل کی دھڑکن مسلسل 100 فی منٹ سے زیادہ ہو یا آرام کی حالت میں 60 سے کم ہو اور اس کے ساتھ دیگر علامات جیسے سرچکرانے، سانس لینے میں مشکل یا غشی کا احساس ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔مذید معلومات حاصل کرنے کے لیے نور ہیلتھ زندگی کے ساتھ ای میل اور واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ noormedlife@gmail.com

Leave a Comment

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s