کیا آپ گردن میں درد سے پریشان ہیں؟ آئیے اس کا حل ڈھونڈیں!

Noor Health Life

   ہماری گردن اور کمر چھوٹے چھوٹے مہروں سے ملکر بنی ہے جو کہ ریڑھ کی ہڈی کی شکل میں ہمیں نظر آتے ہیں۔ گردن میں درد کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں اور یہ ایک بہت عام مسئلہ ہے۔ ہم میں سے ذیادہ تر افراد اس کا کسی نہ کسی موقع پر شکار ہو سکتے ہیں۔ کچھ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں: نور ہیلتھ زندگی آ پ کی خدمت میں ہر وقت حاضر ہیں صرف آ پ نور ہیلتھ زندگی کا ساتھ دو اور غریبوں کی مدد میں نور ہیلتھ زندگی کا ساتھ دو۔
  آؤ مزید پڑھیں۔
   ●سٹریس اور پریشانی

   ●سوتے ہوئے گردن کی غلط پوزیشن

   ●غلط پوسچر

   ●تھکاوٹ یا پٹھوں میں کھچاوء

   ●میننجائٹس

   ○اس مرض میں دماغ اور حرام مغز کے ارد گرد موجود جھلی میں انفلیمیشن یا سوزش ہو جاتی ہے اور شدید سر درد، بخار اور گردن میں شدید اکڑاہٹ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

   ●ہارٹ اٹیک

   ○دل کا دورہ بھی اس درد کے ساتھ نمودار ہو سکتا ہے مگر اس کے ساتھ مزید علامات جیسا کہ پسینہ آنا، قے، متلی سانس میں دشواری اور جبڑے میں درد بھی شامل ہے۔

   مندرجہ ذیل گردن میں درد کی غیر معمولی وجوہات ہیں:

   ●فریکچر

   ●ٹیومر

   ●انفیکشن

   ●انفلیمیشن- مثال کے طور پر انکائلوزنگ سپونڈیلائٹس

   علامات:

   گردن میں مسئلے کی عام علامات یہ ہیں:

   ●درد اور کھچاوء: اس قسم کا درد سر کو ایک پوزیشن میں ذیادہ دیر رکھنے سے بڑھ جاتا ہے۔

   ●گردن کا سن ہو جانا یا اندر سوئیاں چبھنا: یہ کسی نرو پر پریشر پڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ بازو تک محسوس ہو سکتا ہے۔

   ●کلکنگ کی آواز آنا یا شور محسوس ہونا: اس آواز کو میڈیکل کی اصطلاح میں کریپیٹس کہا جاتا ہے اور یہ پٹھوں اور ہڈیوں کے ایک دوسرے کے اوپر رگڑ کھانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ علامت ذیادہ تر رات کے وقت دیکھنے کو ملتی ہے۔

   ●چکر آنا اور بے حوش ہو جانا: ورٹیبرل آرٹریز پر پریشر کی وجہ سے انسان بے حوش بھی ہو سکتا ہے اور چکر بھی آنے لگتے ہیں۔

   ●پٹھوں میں کھچاوء: یہ احساس مسلز میں اکڑاہٹ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

   گھر بیٹھے ہی اپنی گردن کا علاج کریں

   عام طور پر گردن میں درد کسی سنگین مسئلے کی وجہ سے نہیں ہوتا اور عموما یہ 4 سے 6 ہفتے کے دوران بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے۔ مندرجہ اکسرسائیزز مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:

   ●نیک ٹرن:

   اپنے سر کو ایک جانب موڑیں حتی کہ مسلز میں تناو محسوس ہونے لگے اور 5 سیکنڈز تک اسی حالت میں رہیں اور پھر یہی عمل دوسری جانب بھی دہرائیں۔

   ●نیک ٹلٹ ڈاون:

   اپنی گردن کو آرام سے اپنی چھاتی کی طرف موڑیں اور اسی حالت میں کچھ لمحے رہنے دیں اور اسی عمل کو کئی بار دہرائیں۔

   ●نیک ٹلٹ:

   اپنے سر کو ایک کندھے کی طر جھکائیں حتی کہ اس میں کھچاوء محسوس ہونے لگے اور سر کو 5 سیکنڈز تک اسی حالت میں رکھیں اور پھر یہی عمل دوسری طرف دہرائیں۔

   ●نیک سٹریچ:

   اپنی تھوڑی کو پیچھے کی جانب دھکیل کر اپنے مسلز میں تناو پیدا کریں اور 5 سیکنڈ تک اسی حالت میں رہیں اور اس عمل کو 5 مرتبہ دہرائیں۔

   گردن میں اکڑاہٹ کا علاج:

   ●گرمائش یا برف کی ٹکور کریں:

   20 منٹ تک برف کی ٹکور کافی حد تک انفلیمیشن میں کمی لا سکتی ہے۔ اسی طرح گرم پانی سے نہانے کے بعد بھی سکون محسوس ہوتا ہے۔

   ●مساج کروائیں:

   کسی ماہر سے مساج بھی کافی آرام دہ ہو سکتا ہے۔

   ●او۔ٹی۔سی ادویات استعمال کریں۔

   ●آکیوپنکچر:

   اس عمل میں ہمارے مسلز کے مختلف پریشر پوائنٹس میں باریک باریک سوئیاں چھبوئی جاتی ہیں جس سے انسان کافی حد تک فرق محسوس کرتا ہے۔

   ●کائیروپریکٹک کئیر:

   یہ مسلز اور جوڑوں کا مخصوص طریقے سے علاج کر سکتے ہیں مگر اس سے قبل ڈاکٹر سے مشاورت لازمی ہے۔

   ●سٹریس کم کریں:

   سٹریس کی وجہ سے بھی گردن میں کھچاوء پیدا ہو جاتا ہے لہذا ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیں جس سے آپکی ٹینشن کم ہو جائے۔

   ●اپنے سونے کے ماحول کو بہتر بنائیں:

   ○اچھے میٹریس کا انتخاب کریں

   ○کروٹ لے کر یا کمر اوپر کر کے سوئیں

   ○گردن کے لیے مخصوص تکیہ استعمال کریں

   ○سونے سے پہلے اپنے جسم کو ریلیکس کریں

   عموما گردن کا درد انہی طریقوں سے ٹھیک ہو جاتا ہے مگر اس میں تاخیر کی صورت میں اپنے ڈاکٹر سے لازمی مشاورت کریں۔کاندھوں کا درد پٹھوں ، ہڈیوں میں یا ان کے آس پاس ہوتا ہے۔اگر یہ درد شروع ہو جاتا ہے تو پھر کوئی کام توجہ سے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہر عمر کے لوگوں کو کاندھوں کے درد سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔وہ لوگ جو لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ یا اسمارٹ فون کا استعمال زیادہ دیر تک کے لئے کرتے ہیں وہ اس مسئلے کا زیادہ شکار رہتے ہیں ۔ کاندھوں کے درد کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں ۔سب سے عام وجہ ٹشوز یا پٹھوں میں چوٹ لگنا ہو سکتی ہے۔ درد کی دوسری وجوہات جوڑوں کی بیماری ، ہڈی کا ٹوٹ جانا ، مہروں کا کھسک جانایا کاندھے کا فریز ہو جانا شامل ہے۔ گردن کے مہروں ، دل ، جگر اور پتے کی بیماری کی وجہ سے بھی کاندھے میں درد ہو تا ہے۔ درد کی علامات میں سوجن اور کاندھے کو حرکت دینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ معمولی درد کا آپ گھر پر بھی علاج کر سکتے ہیں۔اگر درد شدید ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

  کاندھے کے درد کاگھریلو علاج
  ٹھنڈی سکائی
  کاندھے کے درد کے لئے ٹھنڈی سکائی کافی فائدہ مندہے۔ ٹھنڈی سکائی سے متاثرہ جگہ سن ہو جاتی ہے جو جلن اور تکلیف میں کمی پیدا کرتی ہے ۔
  ۔ پلاسٹک بیگ میں آئس کیوبس ڈالکر پتلے تولیے میں لپیٹ لیں۔
  ۔متاثرہ جگہ پر دس سے پندرہ منٹ کے لئے رکھیں ۔
  ۔دن میں کئی مرتبہ کریں۔
  ٹھنڈے پانی میں تولیہ بھگو کر بھی سکائی کی جا سکتی ہے۔
  گرم سکائی
  گرم سکائی بھی درد کے علاج میں فائدہ مند ہے۔ درد، جلن اور سوجن کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ چوٹ لگنے کے ۴۸ گھنٹے بعد گرم سکائی کی جائے۔ گرم سکائی پٹھوں کے کھنچاؤ میں بھی مفید ہے۔
  ۔ گرم پانی کی تھیلی میں گرم پانی بھر کر کاندھے کی سکائی کریں ۔ اس کے لئے سکون سے لیٹ جائیں اور دن میں کئی دفعہ دس سے پندرہ منٹ کے لئے سکائی کریں ۔
  ۔اس کے علاوہ ہلکا گرم شاور لیں اورپانچ سے دس منٹ تک پانی ڈالیں۔ پانی ڈالتے وقت سیدھے کھڑے رہیں۔ دن میں دو دفعہ کریں۔
  دباؤ
  دباؤ کا مطلب درد والے حصے پر زور ڈالنا ہے۔ جس سے سوجن میں کمی آتی ہے۔ پٹی کرنے سے کاندھے کو بہت سہارا ملتا ہے اور سکون ملتا ہے۔
  ۔آپ متاثرہ حصے کو کھنچنے والی گرم پٹی کی مدد سے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔پٹی کو متاثرہ حصے پر کچھ دنوں تک باندھ کے رکھیں تاکہ درد اور سوجن میں کمی آئے۔ کاندھے کو آرام دینے کے لئے تکیے پر اونچا کرکے رکھیں۔
  ۔پٹی کو بہت زیادہ کس کر نہ باندھیں کہ اس سے دوران خون متاثر ہو۔
  ایپسم سالٹ
  ایپسم سالٹ میگنیشئم سلفیٹ سے بنتا ہے۔ درد کو کم کرتا ہے۔ دوران خون کو بہتر بنا کر پٹھوں کے کھنچاؤ کو کم کرتا ہے۔
  ۔باتھ ٹب کو نیم گرم یا قابل برداشت گرم پانی سے بھریں۔
  ۔دو کپ ایپسم سالٹ ڈال کر حل کر لیں۔
  ۔ اس پانی میں بیٹھ کر کاندھوں کو پانی میں بیس سے پچیس منٹ تک ڈبوئے رکھیں۔
  ۔ہفتے میں تین دن تک کریں۔
  مساج
  مساج کرنے سے بھی کاندھوں کا درد کم ہوتا ہے ۔ ایک ہلکا مساج پٹھوں کے کھنچاؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دوران خون کو بڑھا کر سوجن اور اکڑاہٹ کو کم کرتا ہے۔ ایسے شخص سے مساج کرائیں جو اچھا مساج کرسکے۔ مساج کے لئے زیتون ، تل یا سرسوں کا تیل استعمال کر سکتے ہیں۔
  ۔دن میں کئی مرتبہ کریں۔
  ۔مساج کرنے سے تکلیف ہو تو مساج نہ کریں۔
  ہلدی
  ۔دو چمچ ہلدی اور ایک یا ایک سے زیادہ چمچ کھوپرے کا تیل ملا کر پیسٹ بنا لیں۔ اس پیسٹ کو متاثرہ جگہ پر مل کر سوکھنے دیں۔ نیم گرم پانی سے دھو لیں ۔ دن میں دو دفعہ کریں۔
  ۔ ایک چائے کا چمچ ہلدی ایک کپ دودھ میں ملا کر ابال لیں۔ شہد ڈال کر میٹھا کرلیں۔ دن میں دو دفعہ پئیں۔
  سیب کا سرکہ
  ۔دو کپ سیب کا خالص سرکہ گرم پانی کے باتھ ٹب میں ملائیں ۔
  ۔بیس سے تیس منٹ تک اس پانی میں کاندھوں کو رکھیں ۔ روزانہ ایک دفعہ کریں۔
  ۔ایک گلاس گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ سرکہ اور تھوڑا سا شہد ملا کربھی دن میں دو دفعہ پی سکتے ہیں۔
  ادرک
  ۔دو سے تین کپ ادرک کی چائے روزانہ پیئیں۔
  ۔چائے بنانے کے لئے ایک کھانے کا چمچ باریک کٹی ادرک ڈیڑھ سے دو کپ پانی میں دس منٹ تک پکائیں۔چھان کر شہد ملائیں اور پی لیں ۔
  مزید ہدایات
  ۔متاثرہ حصے کو زیادہ سے زیادہ آرام دیں۔
  ۔لیٹتے وقت کاندھے کے نیچے تکیہ لگا کراونچا رکھیں۔
  ۔ہلکی پھلکی ورزش کریں تاکہ متاثرہ حصے میں حرکت ہو سکے۔
  ۔نیم گرم پانی میں لیموں ملا کر دن میں دو تین مرتبہ پیئیں تاکہ معدنیات جوڑوں میں جمع نہ ہو سکیں کیونکہ یہ درد کا باعث بنتے ہیں۔
  ۔سگریٹ اور تمباکو نوشی نہ کریں کیونکہ یہ زخم کے بھرنے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ مزید سوالات اور جوابات حاصل کرنے کے لیے نور ہیلتھ زندگی کے ساتھ ای میل اور واٹس ایپ کر سکتے ہیں۔ noormedlife@gmail.com

Leave a Comment

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s