کالا یرقان کیا ہے اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

Noor Health Life

   کالا یرقان جسے ہیپاٹائٹس سی بھی کہتے ہیں جگر کا انفیکشن ہے جو جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ ہیپاٹائٹس سی وائرس یا ایچ سی وی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

   کالا یرقان یا ہیپاٹائٹس سی انفیکشن شدید (قلیل مدتی) یا دائمی (دیرپا) ہو سکتا ہے۔ جب کسی شخص کو شدید ہیپاٹائٹس ہو تو علامات 6 ماہ تک رہ سکتی ہیں۔

   ایک شدید انفیکشن دائمی ہو جاتا ہے اگر جسم وائرس کو صاف نہیں کر سکتا۔ یہ عام بات ہے – شدید انفیکشن 50 فیصد سے زیادہ قابل اعتماد معاملات میں دائمی بن جاتے ہیں۔

   بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام نور ہیلتھ زندگی کے مطابق ، آج ہیپاٹائٹس سی کے زیادہ تر نئے معاملات سوئیوں یا دیگر آلات سے رابطے سے ہوتے ہیں جو ادویات کی تیاری یا انجیکشن کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ اکثر صحت کی دیکھ بھال کی ترتیبات میں ایک کی سوئیاں استعمال کرنے یا حادثاتی رابطے سے ہوتا ہے۔

   کالے یرقان کی علامات کیا ہیں؟

   آپ کو کالا یرقان کیسے ہو سکتا ہے؟

   آپ کو کالا یرقان کن ذریعوں سے نہیں ہو سکتا

   شدید درجے کے کالے یرقان کی علامات

   کالے یرقان کی تشخیص

   علاج

   روک تھام

   آپ کو اپنے ڈاکٹر سے کب ملنا چاہئے؟

   کالے یرقان کی علامات کیا ہیں؟

   ہیپاٹائٹس سی یا کالے یرقان  کی بہت سے لوگوں میں کوئی علامات نہیں ہیں۔ لیکن وائرس آپ کے خون میں داخل ہونے کے 2 ہفتوں سے 6 ماہ کے درمیان ، آپ یہ دیکھ سکتے ہیں:

   مٹی کے رنگ کا فضلہ

   سیاہ پیشاب

   بخار

   تھکاوٹ

   جوائنڈس (ایسی حالت جو آنکھوں اور جلد کی زرد ہونے کے ساتھ ساتھ سیاہ پیشاب کا سبب بنتی ہے)

   جوڑوں کا درد

   بھوک میں کمی

   متلی

   پیٹ میں درد

   قے

   علامات عام طور پر 2 سے 12 ہفتوں تک رہتی ہیں

   آپ کو کالا یرقان کیسے ہو سکتا ہے؟

   کالا یرقان تب  پھیلتا ہے جب ہیپاٹائٹس سی وائرس سے آلودہ خون یا جسمانی سیال آپ کے خون کے دھارے میں کسی متاثرہ شخص سے رابطے کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔

   :مندرجہ ذیل طریقوں سے آپ کو وائرس سے متاثر کیا جا سکتا ہے

   ایک ہی نجکشن کی دوائیں اور سوئیاں استعمال کرنا

   جنسی تعلق رکھنا ، خاص طور پر اگر آپ کو ایچ آئی وی ہے

   پیدائش – ایک ماں اسے بچے کو منتقل کر سکتی ہے

   آپ کو کالا یرقان کن ذریعوں سے نہیں ہو سکتا

   کھانسی

   گلے ملنا

   ہاتھ پکڑنا

   مچھر کا کاٹنا

   کھانے کے ایک ہی برتن استعمال کرنا

   چھینکنا

   شدید درجے کے کالے یرقان کی علامات

   پیٹ میں پانی بھر جانا یا ٹانگوں اور پیروں میں سوجن

   پتھری

   آپ کا دماغ بھی کام نہیں کرتا (اینسیفالوپیتھی)

   گردے خراب

   آسانی سے خون آنا اور چوٹ لگنا

   شدید خارش

   پٹھوں کا نقصان

   میموری اور حراستی میں دشواری

   جلد پر مکڑیکے جالے  جیسی رگیں

   نچلی نالی میں خون بہنے کی وجہ سے خون کی الٹی (غذائی نالی کی مختلف حالتیں)

   وزن میں کمی

   کالے یرقان کی تشخیص

   چونکہ نئے ایچ سی وی انفیکشن عام طور پر غیر علاماتی ہوتے ہیں ، جب انفیکشن نیا نیا ہوتا ہے تو بہت کم  لوگوں کی تشخیص کی جاتی ہے۔ وہ لوھ جو  دائمی ایچ سی وی انفیکشن رکھتے ہیں، ان میں انفیکشن اکثر تشخیص نہیں کیا جاتا ہے کیونکہ یہ انفیکشن کے بعد بھی کئی عرصے تک غیر علامات کا شکار رہتا ہے یہاں تک کہ جب علامات جگر کے سنگین نقصان کو ثانوی بنا دیتے ہیں۔

   ایچ سی وی انفیکشن کی تشخیص 2 مراحل میں کی جاتی ہے۔

   1۔ سیرولوجیکل ٹیسٹ کے ساتھ اینٹی ایچ سی وی اینٹی باڈیز کی جانچ ان لوگوں کی شناخت کرتی ہے جو وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

   2۔ اگر ٹیسٹ اینٹی ایچ سی وی اینٹی باڈیز کے لیے مثبت ہے تو ، دائمی انفیکشن کی تصدیق کے لیے ایچ سی وی رائبنکلیک ایسڈ (آر این اے) کے لیے نیوکلک ایسڈ ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ایچ سی وی سے متاثرہ تقریبا 30 فیصد لوگ بغیر کسی ضرورت کے مضبوط مدافعتی ردعمل سے انفیکشن کو بے ساختہ صاف کر دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ اب مزید متاثر نہیں ہوتے ہیں ، وہ پھر بھی اینٹی ایچ سی وی اینٹی باڈیز کے لیے مثبت ٹیسٹ دکھائیں گے۔

   کسی شخص کو دائمی ایچ سی وی انفیکشن کی تشخیص ہونے کے بعد ، جگر کو پہنچنے والے نقصان کی ڈگری (فائبروسس اور سروسس) کا تعین کرنے کے لیے ایک جائزہ لیا جانا چاہیے۔ یہ جگر کی بایپسی یا مختلف قسم کے غیر حملہ آور ٹیسٹوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ جگر کے نقصان کی ڈگری علاج کے فیصلوں اور بیماری کے انتظام کی رہنمائی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

   ابتدائی تشخیص صحت کے مسائل کو روک سکتی ہے جو انفیکشن کے نتیجے میں ہو سکتے ہیں اور وائرس کی منتقلی کو روک سکتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے ان لوگوں کی جانچ کی تجویز کی ہے جو انفیکشن کے بڑھتے ہوئے خطرے میں ہیں۔

   علاج

   ایچ سی وی کے ساتھ ایک نیا انفیکشن ہمیشہ علاج کی ضرورت نہیں رکھتا ، کیونکہ کچھ لوگوں میں مدافعتی ردعمل انفیکشن کو صاف کردے گا۔ تاہم ، جب ایچ سی وی انفیکشن دائمی ہو جاتا ہے ، علاج ضروری ہے۔ کالے یرقان کے علاج کا مقصد بیماری کا علاج ہے۔

   ڈبلیو ایچ او 12 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے پین جینوٹائپک ڈائریکٹ ایکٹنگ اینٹی وائرل (ڈی اے اے) کے ساتھ تھراپی کی سفارش کرتا ہے۔ ڈی اے اے ایچ سی وی انفیکشن والے زیادہ تر افراد کا علاج کر سکتا ہے ، اور علاج کی مدت مختصر ہوتی ہے (عام طور پر 12 سے 24 ہفتوں تک) ، جو کہ سروسس کی عدم موجودگی یا موجودگی پر منحصر ہے۔

   پین جینو ٹائپک ڈی اے اے بہت زیادہ اعلی اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں مہنگے رہتے ہیں۔ تاہم ، ان ادویات کے عام ورژن متعارف کرانے کی وجہ سے بہت سے ممالک (بنیادی طور پر کم آمدنی والے اور کم درمیانی آمدنی والے ممالک) میں قیمتوں میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔

   ایچ سی وی علاج تک رسائی بہتر ہو رہی ہے لیکن بہت محدود ہے۔ 2019 میں عالمی سطح پر ایچ سی وی انفیکشن کے ساتھ رہنے والے 58 ملین افراد میں سے ، ایک اندازے کے مطابق 21 فیصد (15.2 ملین) ان کی تشخیص جانتے تھے ، اور ان لوگوں میں سے جو دائمی ایچ سی وی انفیکشن کی تشخیص کرتے ہیں ، 2019 کے اختتام تک تقریبا 62 فیصد (9.4 ملین) افراد کا  ڈی اے اے سے علاج کیا گیا تھا۔

   روک تھام

   ہیپاٹائٹس سی کے خلاف کوئی موثر ویکسین نہیں ہے لہذا روک تھام کا انحصار صحت کی دیکھ بھال کی ترتیبات اور زیادہ خطرہ والی آبادیوں میں وائرس کے خطرے کو کم کرنے پر ہے۔ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو منشیات کا انجکشن لگاتے ہیں اور مرد جو مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھتے ہیں ، خاص طور پر وہ لوگ جو ایچ آئی وی سے متاثر ہوتے ہیں یا وہ جو ایچ آئی وی کے خلاف پری ایکسپوزر پروفیلیکسس لیتے ہیں۔

   :روک تھام کے اقدامات میں شامل ہیں

   صحت کی دیکھ بھال کے انجیکشن کا محفوظ اور مناسب استعمال

   تیز نوکیلی چھیزوں اور فضلے کو محفوظ طریقے سے ہینڈل کرنا اور ضائع کرنا

   منشیات کے انجیکشن لگانے والے لوگوں کو نقصان سے بچانے کی جامع خدمات کی فراہمی

   ایچ سی وی اور ایچ بی وی کے لیے عطیہ شدہ خون کی جانچ

   صحت کے عملے کی تربیت اور

   جنسی تعلقات کے دوران خون کی نمائش کی روک تھام

   آپ کو اپنے ڈاکٹر سے کب ملنا چاہئے؟

   اگر آپ کو کالے یرقان کی علامات ہیں یا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو وائرس کا سامنا کرنا پڑا ہے تو جانچ کے لیے ملاقات کا وقت بنائیں۔بڑوں میں یرقان کی وجوہات اور علاج

   بڑوں میں یرقان یا جسے جوائنڈس یا پیلیا بھی کہتے ہیں ، عموماً یہ مرض نوزائیدہ بچوں میں پایا جاتا ہے لیکن انسان عمر کے کسی بھی حصے میں اس کا شکار ہو سکتا ہے۔ یرقان کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ بڑوں میں یرقان جگر، خون یا پتے کے مسائل کی علامت ہوسکتا ہے ۔

   بڑوں میں یرقان ہونے کی وجوہات

   یرقان تب ہوتاہے جب بلی روبین کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔ بلی روبین خون میں موجود ایک زرد سے نارنجی رنگ کا مادہ ہوتا ہے جو خون کے سرخ خلیات میں پایا جاتا ہے ۔ جب یہ خلیات مر جاتے ہیں ، جگر انھیں خون میں سے چھان لیتا ہے ۔ لیکن اگر اس نظام میں کوئی عضر پیدا ہو جائے تو جگر صحیح طرح کام نہیں کرتا اور بلی روبین زیادہ تعداد میں بننا شروع ہوجاتے ہیں جس سے جلد پیلی معلوم ہوتی ہے ۔

   یرقان بڑوں میں اتنا عام نہیں ہے جتنا بچوں میں لیکن اس کے ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ جن میں سے چند کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :

   *ہیپاٹائٹس: اکثر یہ انفیکشن ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے ۔یہ قلیل الحیات بھی ہو سکتا ہے اور دائمی بھی ۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ چھ ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے ۔ مخصوص ادویات کا استعمال اور مدافعتی نظام کی خرابی ہیپاٹائٹس کا سبب بن سکتی ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ہیپاٹائٹس پہلے جگر کو نقصا ن پہنچا کریرقان کا سبب بن سکتا ہے ۔
   *پت نالی میں رکاوٹ: یہ تنگ نالیاں ہوتی ہیں جن میں سیال جسے پت کہتے ہیں دوڑتا ہے ۔ یہ نالیاں پت کو جگر اور پتے سے چھوٹی آنت تک پہنچاتی ہیں ۔ کبھی کبھی یہ پتے کی پتھری ، کینسریا جگر کے مرض کی وجہ سے بلاک ہو جاتی ہیں ۔ اگر ایسا ہو تو یہ یرقان کا باعث بن سکتی ہیں ۔
   *لبلبے کا کینسر: یہ مردوں میں پائے جانے والا دسواں اور عورتوں میں نواں سب سے عام کینسر ہے ۔اس سے بھی پت نالی بلاک ہو سکتی ہے ، جس سے یرقان ہو سکتا ہے ۔
   * بعض ادویات کا استعمال :پینسیلین، ضبط ولادت کی دوائیں اور اسٹیرائڈکے استعمال کا تعلق جگر کے امراض سے ہے ۔

   یرقان کی علامات

   *جلد اور آنکھوں کے سفید حصے کا زرد ہو جانا۔
   *خارش
   *متلی یا الٹی
   *وزن گھٹنا
   *بخار
   *پشاب کا رنگ گہرا ہو جانا ۔

   یرقان کی تشخیص

   ڈاکٹر عموماًیرقان کی علامات ظاہر ہونے پر بلی روبین کا ٹیسٹ کراتے ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ خون میں یہ مادہ کتنی مقدار میں موجود ہے ۔ اگر مریض کو یرقان ہے تو اسکے خون میں بلی روبین کی مقدار ذیادہ ہو گی ۔ معالج علامات کے بارے میں معلوم کرنے کے بعد چیک اپ اور دیگر ٹیسٹ بھی لکھ کر دے سکتے ہیں جس سے جگر کے بارے میں پتا چل سکے ۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے سی بی سی بھی کرایا جاتا ہے جس میں خون کے خلیات کی گنتی کی جاتی ہے ۔

   یرقان کا علاج

   اس کے علاج کے لیے اس کی وجہ کو جاننا اور اس کا علاج کرنا ضروری ہے ۔ اگر ہیپاٹائٹس یرقان کا باعث بنا ہے تو جیسے جیسے مرض دور ہوگا اور جگر صحت مند ہونا شروع کرے گا یرقان اپنے آپ ٹھیک ہونے لگے گا ۔
   پت نالی میں اگر کوئی رکاوٹ ہو اور اس کے باعث یرقان کا مرض لاحق ہوگیا ہے تو ڈاکٹر سرجری سے نالی کھولتے ہیں ۔کونسی غذائیں یرقان کا قدرتی علاج ہیں؟

   ’’یرقان‘‘ کاعلاج دواؤں کی بہ نسبت غذا ؤںسے زیادہ بہتر طور پر کیا جاتا ہے۔ اس بیماری میں چند احتیاطیںضروری ہیں۔ یرقان کے مریض بیماری کے دوران ہر قسم کی جسمانی مشقت چھوڑ دیں۔ نمک، مرچ اور روغن میں پکے ہوئے کھانوںکی بجائے پھل اور کچی سبزیاں استعمال کریں۔ ذیل میں ہم چندایسے پھلوں، سبزیوں اور جڑی بوٹیوں کے بارےمیں بتا رہےہیں جو مریضوں کے لیے غذا بھی ہیں اور مرض کا علاج بھی۔

   احتیاط

   برف کا کثرت سے استعمال کرنا جگر میں ورم پیدا کرتا ہے۔ جتنا ممکن ہوسکے اس سے گریز کریں، مرغن یا ثقیل غذا کا استعمال نہ کریں،اس سے جگر کا فعل متاثر ہوتا ہے، اس لیے صرف کچی سبزی یا پھلوں کا رس استعمال کریں۔

   کدو

   کدو کےقتلے کاٹ کرشوربے دار پکائیں، چکنائی کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہو۔ دھنیا‘ سفید زیرہ‘ ادرک‘ کالی مرچ‘ ہلکا سا نمک‘ لہسن ڈالیں۔ سرخ یا ہری مرچ، کسی بھی قسم کاگرم مسالہ اور کھٹائی نہ ڈالیں۔شدید بھوک لگنے پرکدو کے قتلے کھاکر شوربہ پی لیں ۔کسی بھی قسم کا اناج نہ کھائیں ۔ دو سے تین روز بعد شدید بھوک میںڈبل روٹی‘ دلیہ‘ مونگ کی دال اور چاول کی کھچڑی کھائیں، وہ بھی انتہائی معمولی مقدار میں۔ مولی‘ گاجر‘ کھیرا‘ لوکی‘ توری بھی بغیر مرچ اور گرم مسالے کےابلی ہوئی یا کچی کھا سکتے ہیں۔ کمزوری محسوس کریں تو غذا کے ساتھ خالص شہد بھی کھالیں تو مزید بہتر ہوگا۔

   ادرک

   نصف ادرک باریک کٹی ہوئی، سونف ایک چائے کا چمچہ اور پودینہ کی دس پتیاں250ملی لیٹر پانی میں ڈال کر قہوہ بنا لیں اور ایک ایک پیالی، دن میں تین سے چار مرتبہ بغیرشکر کے پئیں۔ تازہ پسی ہوئی ادرک نصف چائے کا چمچہ ،ایک چمچہ پانی ‘ اتنی ہی مقدار میںلیموں اور پودینے کا عرق ، ایک چائے کا چمچہ شہد ملا کر آمیزہ بنالیں۔ اسے دن میں تین سے چار مرتبہ چاٹیں۔

   گاجر

   گاجر کا مربہ بنا کرروزانہ ایک کھانے کا چمچہ کھائیں، مربہ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک کلو عمدہ قسم کی گاجر ، ایک کلو شہد اور آدھا لیٹر پانی لیں۔ گاجروں کو لمبائی کے رخ میں دو حصو ںمیں کاٹیں اور پانی میں ڈال کردھیمی آنچ پر پکائیں، دوسری پتیلی میں الگ سے ایک لیٹر پانی ڈال کر ابالیں۔کچھ دیر بعداس میں شہد ڈال کر اچھی طرح حل کریں اوراتنا پکائیںکہ شیرہ بن جائے تو اتار لیں ۔ گاجریں جب اچھی طرح گل جائیں تو انہیں مرتبان میں ڈال کر اس میں شیرہ ڈال کر ڈھکن سے بند کردیں۔ دوسرے روزدو کھانے کے چمچہ کے برابر کھائیں، مربہ کھانے کے بعد ایک چائے کے چمچے کے برابر سونف اور پانچ سبز الائچی کچل کر ایک پیالی پانی میں جوش دے کر چھان لیں اورتھوڑی سی چینی ملا کر پی لیں۔ سونف اور الائچی کی چائے دن میں تین بار پئیں، اس سے مرض میں افاقہ ہوتا ہے۔

   کھیرا

   کھانے سے پہلے اس پر کالا نمک چھڑکیں، اس سےمعدے اور جگر کی گرمی ختم ہوجاتی ہے ۔ یرقان کے مرض میںاس کا کثرت سے استعمال نہایت اکسیر ہے۔

   مولی

   یرقان کے مریضوں کے لیےمولی مفید سبزی ہےاسے کچا کھائیں، اس کے ساتھ گُڑ کھانے سے یہ جلد ہضم ہوتی ہے۔ مولی کا رس چینی میں ملا کر پئیں، مولی کے پتے بھی مفید ہیں۔ ایک پاؤ پتوں کا رس نکال کر اس میں دو کھانے کے چمچےدیسی شکر ملانے کے بعد چھان کر روزانہ ایک پیالی سات دن تک پئیں۔

   ملیٹھی

   ملیٹھی،سونف اور دارچینی ، تمام اشیاء تین، تین گرام ،رات کو آدھا گلاس پانی میں بھگو دیں ،صبح پانی نتھار لیں۔ اس میں پچاس ملی لیٹرمولی کے پتوںکا رس ملا کرنہار منہ پئیں، صبح یہ اشیاء اسی طرح پانی میں بھگو کر رکھ دیں اورشام کو رس بنا کر پئیں۔

   ارجن کے پتے

   ارجن کے پتے شام کے وقت مٹی کے برتن میں بھگودیں، صبح انہیںکچل کر کسی صاف برتن میں چھان کر پی لیں، صبح ان پتوں کو دوبارہ پانی میں بھگوئیں، ان کا پانی شام کے وقت پی لیں۔21 روزتک متواتر یہ نسخہ صبح و شام استعمال کرنے سے مرض ختم ہوجائےگا۔

   آنبہ ہلد ی

   سات ماشہ آنبہ ہلدی پیس کرشہد میں ملا کر روزانہ ایک چائے کاچمچہ صبح و شام کھائیں، تیر بہ ہدف نسخہ ہے۔

   ببول کے پھول

   ببول کے پھول سکھانے کے بعد، اس میںہم وزن مصری ملا کر پیس لیں۔روزانہ ایک ہفتہ تک صبح و شام چھ چھ ماشہ کھائیں۔

   چنے کی بھوسی

   رات کوچار تولہ چنے کی بھوسی ایک گلاس پانی میں بھگودیں اور صبح چھان کردو تولہ پسی ہوئی مصری میں ملاکر پی لیں،چند روز پینے سےافاقہ ہوگا۔

   لیموں

   دوسے تین عدد لیموں کا رس نچوڑ کر تین چھٹانک پانی میں ملائیں۔ سونے سے پہلے اسے پی لیں۔ چارسے پانچ روزتک اس کے استعمال سے یرقان کی علامات ختم ہوجاتی ہیں۔

   کلونجی

   ایک پیالی دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔

   لوکی

   لوکی کے بیج نکال کر پیس لیں اور ان کا دودھ نچوڑ کرمریض کوپلائیں۔

   میتھرے

   میتھی کے بیجوںکو میتھرے کہا جاتا ہے۔ایک پاؤ میتھرے اور ایک پاؤچھوٹی الائچی کو اکٹھا پیس لیں۔ مذکورہ سفوف ایک ، ایک چائے کا چمچہ صبح وشام ایک پیالی دودھ کے ساتھ کھائیں۔

   انار

   رات کو انار کے پچاس گرام کے قریب دانوں کا رس نکال کرلوہے کے کسی صاف برتن میں رکھ دیں۔صبح مصری ملاکر پلائیں۔انار کا سواسیر پانی تھوڑی دیر رکھیں تو کچھ بھاری اجزا نیچے بیٹھ جاتے ہیں۔ان کو چھان کر نکال دیں اس کے بعد اس میں ایک پاؤ دیسی شکراور ایک تولہ سونف پیس کر ملا کربوتل میں ڈال دیں پھر اس کو دھوپ میں رکھیں۔ بوتل ایک چوتھائی خالی ہو۔ ایک ہفتہ اسے یو نہی رہنے دیں لیکن ہلاتے رہیں۔بعد ازاںاس سیال کے تین سے نوتولے روزانہ کھانے سے افاقہ ہو گا۔

   گنا

   یرقان کے مرض میں گنے کا رس شفاء بخش ہوتا ہے،اس کا بہ کثرت استعمال نہ صرف مرض ختم کرتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی جسمانی کمزوری بھی دور ہوتی ہے۔

   آک کا دودھ

   آک ایک پودا ہوتا ہے، اس کے پتے یا شاخ توڑنے پر سفید گاڑھا دودھ نکلتا ہے۔ اس دودھ کے تین قطرے دائیںہتھیلی پر ڈالیں اور اس سے دائیں پیر کے تلوے پر ملیں ۔ جب دودھ چپکنے لگے توملنا بند کر دیں اور 5 منٹ تک لگا رہنے دیں ۔اس کے بعد تازہ پانی سے دھو لیں۔ دوسرے دن یہی عمل بائیں ہاتھ اور پیر کے ساتھ کریں۔یہ عمل روزا نہ باری باری دونوں ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ کریں۔ایک ہفتے کےکے بعد پیلے اور کالے یرقان سے نجات مل جائے گی۔

   چھاچھ

   چھاچھ اس مرض کے لیے بہترین مشروب ہے۔ ایک گلاس چھاچھ میں نمک، پسی ہوئی کالی مرچ اورپسا زیرے کی ایک ایک چٹکی ڈال کر دن میں دو مرتبہ پینے سےفائدہ ہوتا ہے۔چھاچھ کے ساتھ ایک ماشہ مولی کا نمک روز کھانے سے جگر کے افعال درست اور یرقان ختم ہوجاتا ہے۔

   ٹماٹر

   ایک گلاس ٹماٹر کے رس میں ایک چٹکی نمک اور کالی مرچ کا سفوف ڈال کر پینے سے افاقہ ہوتا ہے۔مذید سوالات اور جوابات حاصل کرنے کے لیے نور ہیلتھ زندگی سے رابطہ کریں۔ ای میل اور واٹس ایپ پر آ پ کو معلومات نور ہیلتھ زندگی دے سکتے ہیں۔ noormedlife@gmail.com

Leave a Comment

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s