نظر کی کمزوری : وجوہات – علاج۔

Noor Health Life

    1 نظر کیوں کمزور ہو تی ہے؟

    2 آج کل بچوں کی بہت بڑی عینک استعمال کرتی ہوئی نظر آتی ہے، کیا بچوں میں نظر کی کمزوری بڑھتی جا رہی ہے؟ وہ کون سی تدابیر ہیں جن کو اختیار کر کے اس کمزوری کو روکا جا سکتا ہے؟

    3 کسی کو مثبت نمبر کی عینک لگتی ، کسی کو منفی نمبر کی، جبکہ کئی لو گوں کو کسی خا ص زاویے پر نمبر لگتا ہے اِس کا کیا مطلب ہے؟

    4 کیا عینک با قا ئدگی سے اِستعمال کر نے سے نمبر ایک جگہ رُک جاتا ہے یا پھر بھی بڑھتا رہتا ہے؟

    5 وہ کونسے مسائل ہیں جو عینک باقائدگی سے استعمال نہ کرنے سے سامنے آتے ہیں؟

    6 عینک کب اِستعمال کر نی چا ہئے؟ نزدیک کا کام کر تے ہو ئے یا دُور کا کام کر تے ہو ئے؟

    7 دُور اور نزدیک کی عینک اکٹھی بنوانی چا ہئے یا علیحدہ علیحدہ؟

    8 نظر کی کمزوری کا کیا عینک کے علاوہ بھی کو ئی علاج ہے؟

    9 لیزر اپریشن میں آنکھ کے اندر کیا تبدیلی لائی جاتی ہے؟

    10 لیزر علاج کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟ اور کیا کرنا ہوتا ہے؟

    11  Phakic IOL کیا چیز ہے اور یہ اپر یشن کِس قسم کے مر یضوں کا کِیا جا تا ہے؟

    نظر کیوں کمزور ہو تی ہے؟
نور ہیلتھ زندگی سے کسی دوست نے سوال کیا ہے تو آ ج پھر سے آ نکھوں کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا ہوں غور سے پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور آ پ سب سے ایک بار پھر عرض کرتا ہوں کہ نور ہیلتھ زندگی کا ساتھ دو اور غریب مریضوں کی مدد کرو پیسہ آ نے جانے چیز ہے کبھی ہے اور کبھی نہیں مگر ہم سب پر غریبوں کا حق ہے کہ ہم سب مل کے اس کی مدد کریں اگر کوئی مریض آ پ کے گھر میں ہو اور آ پ کے ساتھ علاج کرنے کی پیسہ نہ ہو تو آ پ کے دل پر کیا گزرے گی آ پ سب اسے اندازہ لگائیں۔اب مزید پڑھیں۔
    نظر کی کمزوری کی مختلف وجو ہات ہو تی ہیں مثلاً بڑ ھا پا، چوٹ آ جانا، شو گر کی بیما ری، و غیرہ لیکن چا لیس سال کی عمر سے پہلے سب سے زیا دہ لوگوں کی کمزوری کی بنیا دی وجہ آ نکھ کی ساخت میں تنوّع کا پا یا جا نا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعا لی نے اِس کا ئنات میں ہر لحاظ سے بہت زیادہ ورا ئیٹی پیدا کی ہے؛ اگر پھول ہیں تو رنگ برنگے، اگر پرندے ہیں تو طرح طرح کے۔ اِسی طرح آنکھوں کی ساخت بھی وہ سب کی ایک جیسی نہیں بناتا اس میں بھی تنوع پایا جاتا ہے۔ جب بچے کا جسم بڑا ہوتا ہے تو ظاہر ہے آنکھیں بھی نشوونما کے عمل سے گزرتی ہیں اس نشوونما کے دوران بعض بچوں کی آنکھوں کی لمبائی مطلوبہ سائز سے بڑی ہو جاتی ہے، جبکہ بعض بچوں کی آنکھوں کی لمبائی مطلوبہ سائز سے چھوٹی رہ جاتی ہے ۔ اِسی طرح کئی بچوں کے قرنیہ کی اُفقی اور عمو دی گو لا ئی میں فرق ہو تا ہے۔ اِن سب صورتوں میں جو تصویر آنکھ کے پردے کے اوپر بنتی ہے وہ دُھندلی سی [آﺆ ٹ آف فوکس] ھوتی ہے جس سے چیزیں دھندلی نظر آتی ہیں۔ مختلف طریقوں سے جب فو کس ٹھیک کر دیا جا تا ہے تو صاف نظر آ نا شروع ہو جاتا ہے۔ اِس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ نظر کی کمزوری زیا دہ تر بیما ری نہیں ہو تی بلکہ ایسے ہی قدرت کی ورائیٹی ہے جیسے کسی کا رنگ سا نو لا ہو نے کو ہم بیما ری نہیں کہہ سکتے۔ البتہ اِس کمزوری کا اِظہار پہلی دفعہ کب ہو گا یہ مختلف لو گوں میں مختلف ہو تا ہے۔

    آج کل بچوں کی بہت بڑی عینک استعمال کرتی ہوئی نظر آتی ہے، کیا بچوں میں نظر کی کمزوری بڑھتی جا رہی ہے؟ وہ کون سی تدابیر ہیں جن کو اختیار کر کے اس کمزوری کو روکا جا سکتا ہے؟

    اصل میں بچوں میں نظر کی کمزوری کا تناسب زیادہ نہیں ہوا بلکہ لوگوں میں بیماریوں کے بارے میں شعور میں اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں تعلیم کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے جس سے تشخیص کا تناسب بہتر ہو گیا ہے۔ پہلے بے شمار بچوں کے بارے میں پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ ان کی نظر کمزور ہے۔ تا ہم بعض قرآن اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ لمبے عرصے کے لئے مسلسل قریب کی چیزوں پر نظر مرکوز رکھنے سے بچوں کی نظر کمزور ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، مثلاً حفظ کرنے والے بچوں میں، کمپیوٹر پر مسلسل گیمیں کھیلنے والے بچوں میں ، اور ٹی وی کے بہت قریب بیٹھ کر مسلسل لمبے پروگرام دیکھنے والے بچوں میں۔

    کسی کو مثبت نمبر کی عینک لگتی ، کسی کو منفی نمبر کی، جبکہ کئی لو گوں کو کسی خا ص زاویے پر نمبر لگتا ہے اِس کا کیا مطلب ہے؟

    جس کی آنکھ سٹینڈرڈ سا ئز سے چھوٹی ہو اس کو مثبت نمبر کی عینک لگانے سے اور جس کی آنکھ بڑی ہو اس کو منفی نمبر کی عینک لگانے سے صاف نظر آنے لگتا ہے۔ جن کے قرنیہ کی اُفقی اور عمودی گولائی میں فرق ہو تا ہے اُن کو کسی خا ص زاویے پر نمبر لگتا ہے جسے سلنڈر نمبر کہتے ہیں۔

    کیا عینک با قا ئدگی سے اِستعمال کر نے سے نمبر ایک جگہ رُک جاتا ہے یا پھر بھی بڑھتا رہتا ہے؟

    عینک چونکہ بیما ری کی وجہ دُور نہیں کر تی بلکہ صرف علا متوں کا علا ج کر تی ہے اِس لئے یہ غلط مشہور ہو گیا ہے کہ عینک باقائدگی سے اِستعمال کر نے سے نمبر ایک جگہ رُک جاتا ہے ۔ آنکھ کی ساخت میں عموماً 18 سال کی عمر تک تبدیلیاں آتی رہتی ہیں چنانچہ اس وقت تک عینک کا نمبر بدلتا رہتا ہے خواہ عینک جتنی مر ضی با قا ئدگی سے اِستعمال کریں۔ عینک اِستعمال نہ کرنے سے اور کئی مسا ئل ضرور سا منے آتے ہیں لیکن نظر ٹہر جانے یا بہتر ہو جا نے والی بات بالکل غلط ہے۔ بالعموم اس عمر کے بعد نمبر ایک جگہ پر رُک جاتا ہے۔چونکہ بچپن کے دوران یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اس لئے عینک کا نمبر بھی بدلتا رہتا ہے۔ اسی لئے بچوں کی عینک کا نمبر وقتاً فوقتاً چیک ہوتا رہنا چاہیے تاکہ ساخت میں جتنی جتنی تبدیلی آتی جائے اُتنا اُتنا عینک کا نمبر بھی تبدیل کیا جاتا رہے۔ اِسی طرح چالیس سال کی عمر کے بعد پھر سے عموماً جسم میں تبد یلیاں آنی شروع ہو جا تی ہیں جیسے با ل سفید ہونا شروع ہو جاتے ہیں اِسی طرح اِس عمر کے بعد ایک دفعہ نظر میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں؛ یا اگر پہلے عینک نہیں لگتی تھی اب ضرورت پڑ سکتی ہے، پہلے والی عینک کا نمبر بدلنا شروع ہو جاتا ہے، یا پھر دور اور نزدیک کا نمبر مختلف ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے ایک ہی عینک سے سارے کام ہو جاتے تھے اب نہیں ہوتے۔

    وہ کونسے مسائل ہیں جو عینک باقائدگی سے استعمال نہ کرنے سے سامنے آتے ہیں؟

    صاف نظر نہیں آتا جس کے لئے آنکھوں کو غور کرنا اور زور لگانا پڑتا ہے۔

    بچوں کی پڑھائی اور دیگر کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں سردرد ہوتی ہے جو بچوں میں بعض اوقات اتنی شدید ہوتی ہے کہ ساتھ اُلٹیاں بھی انے لگتی ہیں۔

    اگر ایک آنکھ کی دوسری کی نسبت کافی زیادہ کمزور ہو تو زیادہ کمزور آنکھ کی نشو و نما ناقص رہ جاتی ہے۔ اُس آنکھ سے حاصل ہونے والی معلومات کی دماغ تو جیہ نہیں کر پاتا اور با لآ خر دماغ کے اُس حصّے کی بھی نشو و نما ناقص رہ جاتی ہے اس کیفیت کا نام ایمبلائی او پیا Amblyopia ہے۔ اگر بارہ سال کی عمر سے پہلے پہلے اس کا پتہ چل جا ئے تو تقریباً سو فیصد علاج ممکن ہوتا ہے لیکن بعد اس کا علاج نا ممکن ہو جاتا ہے۔

    جس انکھ میں یہ نقص ہوتا ہے بہت سارے لوگوں میں وہ آنکھ ٹیڑھی [بھینگی] ہو جاتی ہے۔ یہ نقص بچپن میں بھی سامنے آ سکتا ہے بڑی عمر میں بھی۔

    کام کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے اور کئی لوگوں میں نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔

    عینک کب اِستعمال کر نی چا ہئے؟ نزدیک کا کام کر تے ہو ئے یا دُور کا کام کر تے ہو ئے؟

    چا لیس سال کی عمر سے پہلے جو بھی نمبر لگے ﴿خواہ مثبت ،منفی، یا سلنڈر﴾ وہ ہر وقت اِستعما ل کرنا ضروری ہوتا ہے۔البتہ چا لیس سال کی عمر کے بعددُور اور نزدیک کے نمبر مختلف ہو جاتے ہیں اُس وقت ممکن ہے صرف دُور کے لئے ضرورت ہو یا صرف نزدیک کے لئے۔

    دُور اور نزدیک کی عینک اکٹھی بنوانی چا ہئے یا علیحدہ علیحدہ؟

    اِس کا بہت زیادہ تعلق کام اور ضرورت کی نو عیّت سے ہے۔ اکٹھی عینک ہی زیا دہ بہتر ہو تی ہے۔مختلف فاصلوں پر کام کرنے والی عینک تین قسم کی ہوتی ہے: با ئیفوکل ٹرائیفوکل اور ملٹی فوکل

    نظر کی کمزوری کا کیا عینک کے علاوہ بھی کو ئی علاج ہے؟

    انتہا ئی کم تعداد ایسے لوگوں کی ہو تی ہے جن کی بینا ئی کسی وقتی وجہ سے کم ہو ئی ہو تی ہے یا قا بلِ علاج وجہ اُس کے پیچھے ہو تی ہے مثلاً شوگر کے نا منا سب علاج کے با عث، کا لا مو تیا کے  با عث ،قر نیہ میں سو جھن کے باعث خصوصاً Limbal conjuctivitis یہ الرجی کی ایک قسم ہے۔ ایسے لوگوں کو یقیناً دوا ئی سے فا ئدہ ہو تا ہے لیکن اِس طرح کے لوگوں کو تو عینک سے بھی خاطر خواہ فا ئدہ نہیں ہوتا۔اِکّیس سال کی پر یکٹس کے دوران مجھے کو ئی ایسا شخص نہیں ملا جس کی عینک وا قعی کسی ہو میو پیتھک یا کسی اور نسخے سے اُتر گئی ہو۔کئی لوگ آئے ہیں کہ میں نے علاج کروایا ہے دیکھیں کتنا فرق پڑا ہے؟ جب چیک کیا ہے تو جتنا نمبر پہلے لگتا تھا اُتنا ہی لگ رہا ہو تا البتّہ علا ما  ت ضرور دب چکی ہو تی ہیں۔اِس کا علاج صرف اور صرف آنکھ کی سا خت میں تبد یلی لا نے سے ممکن ہے جو کئی طر یقوں سے ممکن ہے مثلاً لیزر لگا نے سے، فیکو اپریشن سے، Phakic IOL سے، قرنیہ کے اندر فٹ ہونے والے  Corneal rings سے۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے زیا دہ اِستعمال ہو نے والا اور سب سے زیادہ آزمودہ طریقہ لیزر کے زریعے ہی ہے۔

    لیزر اپریشن میں آنکھ کے اندر کیا تبدیلی لائی جاتی ہے؟

    چونکہ قرنیہ کی گولا ئی کو تبدیل کرنے سے اُس کی روشنی کو فوکس کرنے کی طاقت تبدیل کی جا سکتی ہے اِس لئے لیزر کے ذریعے قرنیہ کی بیرونی سطح کی گولائی کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ عینک کے نمبر کے حساب سے کِسی حصے کو زیادہ گول کر دیا جاتا ہے اور کسی حصےکی گولائی کو کم کر دیا جاتا ہے۔ اِس تبدیلی سے مختلف چیزوں سے منعکس ہو کر آنے والی روشنی آنکھ کے پردے پر صحیح طرح فوکس ہو نے لگتی ہے اور آنکھ کو بغیر کسی سہارے [یعنی عینک یا کنٹیکٹ لینز وغیرہ] کے صاف نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ درج زیل تصاویر میں اس اپریشن کے طریق کار کو سمجھانے کی کو شش کی گئی ہے۔

    لیزر علاج کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟ اور کیا کرنا ہوتا ہے؟

    تھوڑے نمبروں تک تو علاج کے نتائج بہترین ہیں، البتّہ بہت زیادہ نمبر ہو مثلاً سولہ سترہ نمبر تو پھر لیزر کی بجا ئے فیکک آئی او ایل Phakic IOL کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے اور وہ بھی بالکل کامیاب ہے۔۔ ہاں البتہ اگر کسی کی آنکھوں میں کوئی پہلے سے ایسی بیماری ہو جو مستقل طور پر صحیح نہ ہو سکتی ہو تو پھر ضرور نقصانات ہو سکتے ہیں مثلاً قرنیہ کی کوئی پرانی بیماری، قرنیہ اگر مسلسل سوزش رہتی ہو، وغیرہ۔ صحت مند آنکھ میں یہ علاج بہت مفید ہوتاہے۔ جہاں تک خطرے والی بات ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ علاج بہت سادہ اور محفوظ ہے مہنگا صرف اس لئے ہے کہ اس کی مشینیں اور دیگر لوازمات بہت مہینگے ہیں علاوہ ازیں اس ٹیکنیک کے ما ہرین کم ہیں خصوصاً ایپی لاسیک Epi-LASIK کے جو کہ جدید طرین ٹیکنیک ہے، اس لئے یہ علاج مہیگا ہے نہ کہ خطرناک ہونے کی وجہ سے۔۔ اس کے لئے کیا چا ہئے؟ 18 سے 40 سال عمر ہونی چاہئے، ارادہ کر لیں، اپنی ترجیحات میں اس کو اوّلین اہمیت دیں اور تو کوئی خاص چیز نہیں چا ہئے۔ دس سے پندرہ منٹ لگتے ہیں، صرف دو تین دن کا وقت بعد میں چا ہئے ہوتا ہے۔

    Phakic IOL کیا چیز ہے اور یہ اپر یشن کِس قسم کے مر یضوں کا کِیا جا تا ہے؟

    یہ بھی ایک لینز ہوتا ہے جسے آپ کنٹیکٹ لینز بھی کہ سکتے ہیں اور آئی او ایل بھی۔ اِسے اپر یشن کر کے آ نکھ کے اندر فِٹ کر دیا جا تا ہے لیکن اس کو فِٹ کر نے کے لئے قدرتی لینز کو نکا لا نہیں جا تا بلکہ اس اپریشن کے بعد مریض کی آنکھ میں دو لینز ہوتے ہیں ایک قدرتی اور دوسرا مصنوعی۔ اس کی دو قسمیں ہیں جو نیچے کی تصویر میں دکھا ئی گئی ہیں۔ یہ لینزاُن لو گو ں کے لئے بہتر ین ہے جِن کا عینک کا نمبر بہت زیا دہ ہو تا ہے اور اُن کے لئے لیزر اپر یشن مناسب نہیں ہوتا۔search

   نظر کی کمزوری کیسے دور کی جائے ؟

   آنکھوں کی بینائی عمر بڑھنے کے ساتھ کمزور ہونے لگتی ہے اور عینک لگ جاتی ہے۔ تاہم اپنی نظر کواچھا رکھنا بہت ضروری ہے ۔

   ہوسکتا ہے کہ یہ کام مشکل محسوس ہو مگر ایسا ہے نہیں بلکہ چند عام نکات کو اپنا کر آپ اپنی بینائی کو عمر بڑھنے کے باوجود بہتر رکھ سکتے ہیں۔

   بینائی کمزور ہونے کی علامات

   کہتے ہیں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔جب آپ اپنے اندر درج ذیل علامات پائیں تو فوری طور پر معالج سے رجوع کریں۔

   آنکھوں میں درد

   ہماری آنکھیں ایک لینس کے طور پر کام کرتی ہیں، جو مختلف فاصلوں پر موجود اشیاکو دیکھنے کے لیے خود کو ایڈجسٹ کرتی ہیں۔ لیکن جب آپ کو کچھ دور موجود چیزوں کو دیکھنے میں مشکل پیش آئے تو آنکھوں کو کچھ زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، جس کے نتیجے میں ان میں درد، تھکاوٹ، پانی بھر آنا یا خشک ہونے جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔

   سر درد رہنا

   آنکھوں میں دباؤ یا تناؤ سردرد کا باعث بن جاتا ہے، کیونکہ آنکھوں کو اپنا کام کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، جس کے نتیجے میں آنکھوں کے آس پاس درد رہنے لگتا ہے، خاص طور پر کوئی کتاب پڑھنے، کمپیوٹر پر کام کرنے یا کسی بورڈ کو دیکھتے وقت۔ آنکھوں کو جب چیزوں کو دیکھنے کے لیے توجہ مرکوز کرنا پڑتی ہے تو مسلز زیادہ سخت کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جس سے سر میں درد رہنے لگتا ہے۔ اگر آپ توجہ دے کر کوئی کام کررہے ہیں تو اس کے دوران پندرہ سے تیس سیکنڈ کا وقفہ ضرور لیں۔

   آنکھیں سکیڑنا

   اپنی پلکوں کو تھوڑا سا بند کرنے سے اگر آپ کو صاف نظر آنے لگتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی بینائی خراب ہورہی ہے۔ آنکھوں کو سکیڑنا ٹھیک دیکھنے میں مدد تو دیتا ہے مگر کافی دیر تک ایسا کرنے سے بینائی زیادہ خراب ہوسکتی ہے، جبکہ سردرد بھی ہونے لگتا ہے۔

   تیز روشنی میں دیکھنا مشکل

   تیز روشنی میں گھومتے ہوئے اگر آنکھوں میںچبھن ہونے لگے تو اس کا مطلب ہے کہ بینائی میں خرابی آرہی ہے، کیونکہ یہ تیز روشنی آنکھوں کو سکڑنے پر مجبور کردیتی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔

   اسکرین کا استعمال کم کریں

   فون یاکمپیوٹر کی اسکرین کے استعمال کا دورانیہ بھی بینائی پر اثرانداز ہوسکتا ہے، ایک دن میں مسلسل دو گھنٹے یا اس سے زائد وقت ڈیجیٹل اسکرین کو دیکھتے ہوئے گزارنا ڈیجیٹل آئی اسٹرین کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آنکھوں میں سرخی، خارش، خشک ہوجانا، دھندلانا،تھکاوٹ اور سردرد وغیرہ کی شکایات ہوسکتی ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اسکرین کے استعمال میں وقفہ دیں۔

   تمباکو نوشی سے گریز

   تمباکو نوشی سے عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی میں آنے والی تنزلی اور بصری اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ ذیابطیس کی بیماری بھی آنکھوں کے مسائل کا سبب بنتی ہے۔

   چیک اَپ کراتے رہیں

   آنکھوں کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ ان کا چیک اَپ کرانا معمول بنالیں، اس عادت سے بینائی میں کسی بھی قسم کے مسئلے کو ابتدا میں ہی پکڑ کر اس پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ اگر اکثر سردرد ہو، کچھ پڑھنے کے بعد آنکھوں کو تھکاوٹ ہو، کچھ دیکھنے کے لیے اسےسکیڑنا پڑے یا کتاب کو قریب لاکر پڑھنا پڑے یہ سب بینائی میں کمزوری کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

   طبیعت بگڑنا

   آپ کی دونوں آنکھیں دو تصاویر بناتی ہیں، جنھیں دماغ جوڑ کر ایک کردیتا ہے، مگر جب ایک آنکھ کی نظر خراب ہورہی ہو تو دماغ میں بننے والی تصویر بھی ٹھیک نہیں ہوتی جو کہ بیمار ہونے کا احساس پیدا کرسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں دماغ دو الگ الگ تصاویر دیکھتا ہے اور اس کے لیے انہیں اکٹھا کرنا مشکل ہوتا ہے، ایسا ہونے پر آپ کو قے، ایک چیز دو نظر آنا یا سر چکرانے کی شکایات ہوسکتی ہیں۔

   بینائی تیز کرنے کے لیے مفید غذائیں

   بینائی قدرت کی انمول نعمت ہے،جس کی حفاظت ہم درج ذیل غذائیں کھاکر کرسکتے ہیں۔

   بھنڈی

   بھنڈی میں زیکسن اور لوٹین جیسے مرکبات موجود ہوتے ہیں، جو بینائی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھنڈی میں وٹامن سی کی مقدار بھی بہت زیادہ ہوتی ہے، جو آنکھوں کی صحت کے لیے مؤثر ہے۔

   خوبانی

   بڑھتی عمر میں بینائی کمزور ہوجاتی ہے، لیکن ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ بیٹا کیروٹین بینائی کو بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ روزانہ وٹامن سی، وٹامن ای، زنک اور کاپر سے بھرپور غذائیں کھانے سے بینائی بہتر ہوتی ہے۔ یہ تمام غذائیت خوبانی میں موجود ہے، اس سے دھندلی بینائی کا خطرہ 25فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

   گاجر

   گاجر میں وٹامن اے موجود ہوتا ہے جو آنکھوں کی جھلی اور دیگر حصوں کو بہتر کام کرنے میں مدد دیتا ہے، گاجر کا روزانہ استعمال بینائی کو بھی بہتر بناتا ہے۔

   گوبھی

   لوٹین ایک ایسا اینٹی آکسیڈنٹ ہے، جو بینائی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ گوبھی میں بھی اس کی مقدار کافی زیادہ پائی جاتی ہے، اس کے علاوہ گوبھی میں موجود وٹامن سی اور بیٹا کیروٹین بھی نہایت فائدہ مند ہوتے ہیں۔

   میوے

   میوے کھانا کس کو پسند نہیں؟ جیسے جیسے سردیاں قریب آتی ہیں، میوے کھانے کا شوق بھی بڑھتا جاتا ہے۔ بادام، اخروٹ اور کاجو جیسے میوہ جات میں اومیگا3کی مقدار کافی زیادہ پائی جاتی ہے۔ یہ آنکھوں کی جھلی کو تیز روشنی سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے اور بڑھتی عمر میں پیش آنے والے آنکھوں کے مسائل کی بھی روک تھام میں مدد کرتا ہے۔ مزید سوالات اور جوابات حاصل کرنے کے لیے نور ہیلتھ زندگی کے ساتھ ای میل اور واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ noormedlife@gmail.com

Leave a Comment

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s