نشہ کیا ہے؟ خمار کیوں ہوتا ہے؟۔

Noor Health Life

   کسی دوست نے نور ہیلتھ زندگی پر سوالات کیا کہ  نشہ کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے آ ج اس جواب بھی ا س پوسٹ میں مل جائے گی اور آ پ سب کو پھر سے عرض کرتا ہوں کہ نور ہیلتھ زندگی کا ساتھ دو اور نور ہیلتھ زندگی کے ذریعے غریبوں کی مدد کریں مزید پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں مگر سوال یہ ہے کہ نشہ اصل میں ہے کیا اور کیوں ہوتا ہے؟

   الکوحل اور دیگر منشیات کا استعمال کرنے پر کوئی شخص جیسے اپنا وزن کھو سا دیتا ہے اور اسے لگتا ہے جیسے ہوائیں اسے اڑائے پھر رہی ہیں۔ وہ پاؤں کہیں رکھتا ہے اور پاؤں پڑتا کہیں اور ہے۔ الکوحل اور دیگر منشیات کی زیادہ مقدار استعمال کر لی جائے، تو ممکن ہے آپ ایک طرح سے بے ہوش ہو جائیں یا قے کرنے لگیں۔ نشے یا خمار کی سطح مختلف ہو سکتی ہے،  مگر اس سارے عمل کے درپردہ وجوہ کیا ہوتی ہیں؟

   الکوحل یا منشیات اصل میں انسانی موڈ، سوچنے کے عمل اور دیگر افعال کو متاثر کرتی ہیں اور سائنسی وجہ یہ ہے کہ ان کا استعمال انسان کے مرکزی اعصابی نظام کو نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ دھاگے ہیں، جن کے ذریعے آپ کے دماغ اور جسم کے درمیان تال میل قائم رہتا ہے۔ یہ دھاگا کچھ ڈھیلا پڑ جائے، تو سارا جسم ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوتا ہے۔

   سائنسی محققین کے مطابق پہلے گھونٹ کے فقط تیس سیکنڈ کے اندر اندر الکوحل آپ کے دماغ تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ اس کا پہلا ہدف دماغ میں اس کیمیائی مادے کو سست بنانا ہوتا ہے، جو دماغی خلیات کے درمیان سگنلز کی آمدورفت سے جڑا ہوتا ہے۔ اسی لیے الکوحل کے استعمال سے آپ کی حرکات و سکنات سست ہو جاتی ہیں اور آپ عام حالات جیسا سوچ نہیں سکتے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ اس لمحے کی یہ مشکل بعد میں آپ کو یاد بھی نہیں ہوتی ہیں

   شراب کے پہلے گھونٹ کے تیس سیکنڈ کے اندر الکوحل دماغ تک پہنچ چکی ہوتی ہے

   الکوحل کا مسلسل اور طویل مدت تک استعمال جاری رکھا جائے، تو دماغی خلیات اپنی شکل تبدیل کرنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ ان کا حجم تک کم ہو جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھیے کہ طویل مدت تک شراب کا استعمال آپ کے دماغ کو چھوٹا کر دیتا ہے۔

   افعال کا انحصار مقدار پر

   الکوحل کی مقدار یہ طے کرتی ہے کہ یہ نظام کتنا متاثر ہوا۔ یعنی مقدار کم ہو تو سکون ، آرام اور سستی کا ڈیرہ ہوتا ہے اور مقدار زیادہ استعمال کر لی جائے، تو زبان لڑکھڑانے لگتی ہے، چلنے میں دشواری ہوتی ہے اور قے تک بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ مقدار میں استعمال کر لی جائے، تو سانس اکھڑ سکتی ہے، کوئی انسان کوما میں جا سکتا ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

   سائنسی اعتبار سے الکوحل سے جڑے نشے کی کیفیت دو یا تین ڈرنکس کے بعد شروع ہوتی ہے۔

   قانونی اعتبار سے  بلڈ الکوحل کنسنٹریشن خون میں الکوحل کے ارتکاز سے جانچی جاتی ہے۔ خون میں اگر یہ سطح پانچ اعشاریہ چار سے سترہ اعشاریہ چار ایم ایم او ایل فی لٹر ہوتو ایسے شخص کو ‘نشے میں‘ قرار دیا جاتا ہے۔

   عام انسانی جگر ایک گھنٹے میں ایک ڈرنک سے نمٹ سکتا ہے، مگر اس کا انحصار بھی عمر، جسمانی حالت اور دیگر عناصر  پر ہے۔ مختصر دورانیے کے لیے الکوحل کے اثرات میں توجہ میں کمی، ربط میں خرابی، فیصلے کی قوت میں کمی اور بصارت کی حس میں کمی اور قے وغیرہ شامل ہیں۔ مگر الکوحل کے استعمال کا طویل المدتی نقصان یہ ہے کہ یہ یادداشت کی خرابی، سیکھنے کی حس میں کمی، جگر کی بیماریوں، گلے، منہ، جگر وغیرہ کے سرطان، بلند فشار خون، امراضِ قلب اور اسٹروک  سمیت دھڑکن کی رفتار میں اتار چڑھاؤ جیسے امور سے جڑی ہے۔

   جسم پر الکوحل کے اثرات

   الکوحل کا مسلسل اور بے پناہ  استعمال سب سے زیادہ جگر کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ مسلسل اور زیادہ مقدار میں الکوحل کے استعمال سے جگر میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے اور اس پر مستقل نشانات بن جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں الکوحلک ہیپاٹائٹس، فیبروسس، اور سیروسس جیسی خطرناک بیماریاں بھی ہو سکتی ہے۔

   نظام انہضام کے لیے بھی الکوحل انتہائی خطرناک ہے کیوں کہ اس کے استعمال سے معدے میں تیزاب کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو السر کا سبب بن سکتا ہے۔ الکوحل کا استعمال جسم کی غذائیت جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الکوحل لبلبے کو بھی خطرناک مادہ پیدا کرنے پر مجبور کر دیتا ہے  جو لبلبے میں سوزش کا سبب بن سکتا ہے۔ الکوحل جسم میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے کے نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

   جسم میں وٹامن بی ون کی کمی الکوحل کے استعمال سے نتھی ہے۔ اسی وجہ سے سونے کے اوقات میں تبدیلی، کنفیوژن، سیکھنے کی صلاحیت میں کمی اور یادداشت کی کم زوری کی راہ کھلتی ہے۔ سائنسی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ الحکول کا زیادہ استعمال دماغ میں نئے خلیات کی پیدائش کی رفتار کو بھی کم کر سکتا ہے۔

   نوجوان الکوحل کی جانب کیوں مائل ہوتے ہیں؟

   نوجوان شراب یا دیگر نشوں کی جانب اس لیے آسانی سے مائل ہو جاتے ہیں، کیوں کہ ان کے لیے شراب کا استعمال مختلف طرز کے دباؤ سے فرار کا راستہ ہوتا ہے۔ غصہ، بے بسی اور دھچکا وغیرہ بھی کسی نوجوان کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے کے امکانات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح جشن، مل بیٹھے کو، موج مستی کرنے وغیرہ جیسے مواقع بھی خود کو نشے کے حوالے کر دینے سے جڑے ہوتے ہیں۔ تاہم ان سے جڑے خطرات اور خصوصاﹰ نفسیاتی مسائل نہایت گھمبیر ہیں۔

   پھر چوں کہ دیگر منشیات کی طرح الکوحل میں بھی عادت بن جانے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے، اس لیے نوجوانوں میں یہ تجرباتی شوق انہیں اس لت میں مبتلا کر سکتا ہے۔چرس استعمال کرنے والے بہت سے لوگ اسے ایک ایسی بے ضرر شے سمجھتے ہیں جو پرسکون رہنے میں مدد دیتی ہے، ایک ایسی نشہ آور شے جو شراب اور سگریٹ کے برعکس جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے اچھی ثابت ہوسکتی ہے۔اس کے برعکس حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایسے افراد جو جینیاتی طور پر خطرے سے دوچار ہوں ان میں یہ  کسی نفسیاتی بیماری کا اہم سبب بن سکتی ہے۔

   نور ہیلتھ زندگی پڑھنے میں چرس کے استعمال کے اثرات اور ذہنی صحت پر ہونے والی تحقیق کے بارے میں ہے اور ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس مسئلے  کے بارے میں فکرمند ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ لوگوں کو اس کتابچے سے چرس استعمال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

   چرس کیا ہے؟

   Cannabis Sativa اور Cannabis indica نیٹل نامی پودوں کے ایک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو صدیوں سے دنیا بھر میں جنگلی پودے کے طور پر اگ رہا ہے۔دونوں پودے کئ مقاصد کےلیے استعمال ہوتے رہے ہیں مثلاً اس کا ریشہ رسی اور کپڑا بنانے، ایک طبی جڑی بوٹی اور ایک مقبول تفریحی نشے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔اس پودے کا عرق کتھئ یا کالے رنگ  کی کشمش کی طرح ہوتا ہے جسے بھنگ، گانجا، حشیش  وغیرہ کہتے ہیں۔جبکہ اس کے سوکھے ہوئے پتے  گراس، ماری جوانا، ویڈ (weed) وغیرہ کہلاتے ہیں۔

   اسکنک  (skunk)چرس کی وہ  نسبتاًطاقتور  قسم ہے جو  اس میں ذہن پر اثرات ڈالنے والے طاقتور مادوں کے لیے خاص طور پر اگائی جاتی ہے۔ اس کو یہ نام اس تیز چبھنے والی بو کی وجہ سے دیا گیا ہے جو یہ اگنے کے دوران خارج کرتی ہے۔ چرس کی  اور بھی سیکڑوں دیگر اقسام موجود ہیں جن کو مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے ۔

   عام چرس نشے کی شدت کے حساب سے بہت سی اقسام میں پائی جاتی ہے اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کسی خاص موقع پر کون سی قسم استعمال کی جارہی ہے۔

   چرس پینے سےاس کے نصف سے زائد نفسیاتی اثرات پیدا کرنے والے اجزا خون میں جذب ہوجاتے ہیں۔ یہ مرکبات پورے جسم کی چربیلی نسیجوں میں جمع ہوجاتے ہیں اس لیے پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج ہونے میں انھیں بہت وقت لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چرس کی شناخت اس کے استعمال کے چھپن دن بعد بھی کی جاسکتی ہے۔

   یہ کس طرح کام کرتی ہے اور چرس کی کیمیائی ساخت کیا ہوتی ہے؟

   چرس کے پودے میں اوسطاً ساٹھ مرکبات اور چار سو کیمیائی مادے ہوتے ہیں۔ چار مرکزی مرکبات کے نام ڈیلٹا نائن ٹیٹراہائڈروکینابینول (ڈیلٹا نائن ٹی ایچ سی)، کینا بیڈیول، ڈیلٹا ایٹ ٹیٹراہائڈروکینابینول اور کینابینول ہیں۔ کینا بیڈیول (سی بی ڈی) کے علاوہ یہ مرکبات ذہن پر اثر انداز ہونے والے ہیں جن میں سے سب سے طاقتور  ڈیلٹا نائن ٹیٹراہائڈروکینابینول ہے۔ پودے کی طاقتور ترین اقسام میں تھوڑا سا کینا بیڈیول (سی بی ڈی) جبکہ  ڈیلٹا نائن ٹی ایچ سی بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔

   جب چرس پی جاتی ہے تو اس کے مرکبات تیزی سے خون میں شامل ہوجاتے ہیں اور براہ راست دماغ اور جسم کے دیگر اعضا میں پہنچ جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر ڈیلٹا نائن ٹی ایچ سی کے دماغ میں موجود کینابائیونائڈ ریسیپٹرز  (cannabinoid receptors)  سےملنے سے   نشہ آور یا خمار کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ دماغ کے خلیات میں ریسیپٹر ایک ایسی جگہ ہے جہاں مخصوص مادے کچھ عرصے کے لیے رک یا جڑ جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو اس کا اثر اس خلیے اور اور اس سے پیدا ہونے والے سگنل پر ہوتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دماغ  خود قدرتی طور پر  چرس کی طرح کے مادے پیدا کرتا ہے جنھیں اینڈوکینابائینوائڈز  (endocannabinoids)کہا جاتا ہے۔ ایسے زیادہ تر ریسیپٹرز دماغ کے اس حصے میں پائے جاتے ہیں جو لذت، یادداشت، خیالات، توجہ، حسیات اور وقت کے ادراک کو متاثر کرتا ہے۔ چرس کے مرکبات آنکھوں، کانوں، جلد اور معدے کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔

   چرس کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔

   خمار۔ سکون، خوشی، خواب آور کیفیت، رنگ مزید خوبصورت اور موسیقی زیادہ پر لطف لگتی ہے۔

   ناخوشگوار

   تقریباً دس میں سے ایک چرس استعمال کرنے والوں پر ناخوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں اپنے ہوش و حواس میں نہ رہنا، غیبی  آوازیں سنائی  دینا یا چیزیں نظر آنا، گھبراہٹ اور  بلا وجہ شکوک و شبہات ہونا  شامل ہیں۔ موڈ اور حالات کی مناسبت سے ایک ہی شخص پر خوشگوار یا ناخوشگوار اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ احساسات عام طور پر وقتی ہوتے ہیں ، تاہم جیساکہ یہ نشہ آور شے کئ ہفتوں تک جسمانی نظام میں رہ سکتی ہے اس کے اثرات استعمال کرنے والوں کی توقع کے برعکس زیادہ عرصے تک بھی موجود رہ سکتے ہیں۔ زیادہ عرصے چرس استعمال کرنے سے ڈپریشن بھی ہو سکتا ہے اور جوش و جذبے میں کمی ہوسکتی ہے۔

   تعلیم اور سیکھنے کی صلاحیت

   یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ چرس کسی شخص میں توجہ، معلومات کو ذہن میں  ترتیب  دینے اور ان کےاستعمال کی استطاعت کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

   کام

   لوگوں کے کام پر بھی چرس کے اسی طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چرس سے صحت پر کوئی مخصوص خطرات مرتب ہوتے ہیں تاہم چرس استعمال کرنے والے افراد  میں اس بات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کہ وہ بغیر اجازت کے کام چھوڑ کر چلے جائیں، کام کے اوقات میں ذاتی کام کرتے رہیں یا محض خیالی پلاؤ  پکاتے ر ہیں۔ چرس استعمال کرنے والے خود اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اس کا استعمال ان کی پیشہ ورانہ اور سماجی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔

   کچھ اقسام کے کام زیادہ محنت یا توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ پائلٹوں پر چرس کے استعمال کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا کہ انھوں نے چرس کے استعمال کے بعد اہم اور معمولی دونوں طرح کی غلطیاں زیادہ کیں بہ نسبت اس وقت کے جب انھوں نے چرس کا استعمال نہیں کیا تھا ۔ یہ تجربہ اصل فلائٹ کے بجائے فلائٹ سیمولیٹرز میں کیا گیا ۔ بدترین اثرات ابتدائی چار گھنٹوں میں رہے اور چوبیس گھنٹے برقرار رہے حتیٰ کہ اس وقت بھی جب پائلٹوں کو اپنے نشے میں ہونے کا اندازہ نہ تھا۔ اس تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا، ” اس شہادت کے پیش نظر ہم میں سے بیشتر افراد ایسے پائلٹ کے ساتھ سفر  کرنا پسند نہیں کریں گے جس نے پچھلے ایک دو دن کے دوران چرس پی ہو۔”

   ذہنی صحت کے مسائل

   اس بات کے قوی شواہد موجود ہیں کہ ایسے افراد جو ذہنی بیماریوں مثلاً ڈپریشن اور سائیکوسس میں مبتلا ہوں ان میں چرس کے حالیہ یا ماضی میں استعمال  کاامکان اور لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ چرس کے باقاعدہ استعمال سے سائیکوسس یا شیزوفرینیا کا خطرہ دوگنا ہوجاتاہے۔ تاہم کیا چرس ڈپریشن اور شیزوفرینیا کا سبب بن سکتا ہے یا ان مسائل کا شکار افراد اس کو بطور دوا استعمال کرتے ہیں؟

   پچھلے چند سالوں میں ہونے والی تحقیق نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ جینیاتی طور پر متاثرہ افراد میں چرس کے استعمال اور بعد میں ہونے والے ذہنی صحت کے مسائل میں واضح تعلق پایا جاتا ہے ، اور یہ  کہ نوجوان لوگوں میں چرس کے استعمال کے حوالے سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

   ڈپریشن

   ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ چودہ سے پندرہ سال کے سولہ سو اسکول جانے والے بچوں پر سات سال تک تحقیق کی گئ جس سے پتہ چلا کہ وہ بچے جو باقاعدگی سے چرس کا استعمال کرتے ہیں ان میں ڈپریشن کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ بچے جو پہلے ہی ڈپریشن میں مبتلا ہوں ان میں چرس کے استعمال کا خطرہ دوسروں سے زیادہ نہیں۔ تاہم وہ نوجوان افراد جو روزانہ چرس کا استعمال کرتے ہیں ان کے ڈپریشن اور اینگزائٹی میں مبتلا ہونے کے امکانات پانچ گنا زیادہ ہیں۔

   شیزوفرینیا

   لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر کئ سالوں تک تین اہم تحقیقات کی گئیں جن سے پتہ چلا کہ چرس کا استعمال کرنے والے افراد میں شیزوفرینیا ہونے کے امکانات دوسرے لوگوں سے زیادہ ہیں۔ اگر آپ پندرہ سال کی عمر سے پہلے اس کا استعمال شروع کردیں تو چھبیس سال کی عمر تک پہنچنے تک آپ میں سائیکوسس ہونے کے امکانات چار گنا زیادہ ہونگے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی شخص چرس کی جتنی زیادہ مقدار استعمال کرے گا اتنا ہی اس میں یہ علامات پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہو گا۔

   نوعمر افراد کو چرس کے استعمال سے نقصان پہنچنے کا خصوصاً زیادہ احتمال کیوں ہوتا ہے؟ کوئی یقینی طور پر نہیں جانتا تاہم اس کا تعلق دماغی نشوونما سے ہوسکتا ہے۔ نوعمری میں بھی بیس سال کی عمر تک دماغ کی نشوونما ہورہی ہوتی ہےاور ‘نیورل پروننگ’ کا غیرمعمولی عمل جاری ہوتا ہے۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے برقی سرکٹوں کے ایک پیچیدہ ہجوم کو ترتیب دیا جائے تاکہ وہ زیادہ موثر طریقے سے کام کرسکیں۔ ایسا کوئی بھی تجربہ یا مادہ جو اس عمل کو متاثر کرے طویل مدتی نفسیاتی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

    وہ افراد جن کے خاندان میں دماغی بیماریاں رہی ہوں اور جن کو جینیاتی طور پر ان مسائل کا زیادہ احتمال ہو اگر وہ چرس کا استعمال کریں تو ان میں شیزوفرینیا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

   کیا (Cannabis psychosis) (چرس سے ہونے والا سائیکوسس)  واقعی میں کوئی بیماری ہے؟

   ڈنمارک میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چرس کے استعمال سے واقعی میں سائیکوسس ہو سکتا ہے۔ یہ ایک مختصر مدت  کی سائیکوسس کی بیماری ہوتی ہے جو چرس کے استعمال سے شروع ہو جاتی ہے تاہم اگر اس کا استعمال روک دیا جائے تو بہت جلدی ختم بھی ہوجاتی ہے۔ لیکن یہ بیماری بہت کم ہوتی ہے، پورے ڈنمارک میں ایک سال میں اس کے صرف سو نئے کیسز نظر آتے ہیں۔

   تاہم تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ:

   ·  تین چوتھائی تعداد اگلے ایک سال میں کسی اور قسم کی سائیکوسس کی بیماری  کا شکار ہوگئی۔

   · تقریباً آدھے لوگ  تین سال بعد بھی کسی نہ کسی قسم کے سائیکوسس کا شکار تھے۔

   اس سے یہ بھی لگتا ہے کہ وہ لوگ جن میںCannabis psychosisکی تشخیص ہوئی تھی دراصل کسی طویل مدتی سائیکوسس  مثلاً شیزوفرینیا کی ابتدائی علامات ظاہر کررہے ہیں۔ یہ  بھی ہوسکتا ہے کہ یہی گروپ ہو جس کو چرس کے استعمال سے بالخصوص سائیکوسس شروع ہو جانے کا خطرہ ہواس لیے اسے مستقبل میں چرس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

   کیا چرس کی عادت پڑ جاتی ہے؟

   چرس میں  نشے کی عادی بنانے والی اشیا کی کچھ خصوصیات پائی جاتی ہیں مثلاً:

   شدید طلب

   بھوک میں کمی

   نیند کی خرابی

   وزن میں کمی

   جارحیت اور / یا غصہ

   چڑچڑا پن

   بے چینی

   عجیب و غریب خواب

   ترک نشہ کی یہ علامات اسی پیمانے کی تکلیف کا باعث بنتی ہیں جو تمباکو چھوڑنے سے ہوتی ہے۔

   باقاعدہ طور پہ لمبے عرصے کے  لیے  استعمال کرنے والوں میں نظر آنے والے اثرات:

   ہر چار میں سے تین افراد کو شدید طلب محسوس ہوتی  ہے

   آدھی تعداد چڑچڑی ہوجاتی ہے

   ہر دس میں سے سات افراد چرس سے بچنے کے لیے تمباکو  کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔

   چڑچڑا پن، گھبراہٹ اور نیند کے مسائل عام طور پر آخری استعمال کے دس گھنٹوں بعد ظاہر ہوتے ہیں اور ایک ہفتے بعد اپنے عروج پر پہنچتے ہیں۔

   اضطراری استعمال

   استعمال کرنے والا فرد یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے چرس ہر حال میں استعمال کرنی ہےاور وہ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اس کی تلاش، خرید اور استعمال میں صرف کردیتا ہے۔ وہ اس عمل کو روک نہیں سکتے چاہے ان کی زندگی کے اہم معاملات (خاندان، اسکول، کام) بھی متاثر ہورہے ہوں۔ اگر آپ روزانہ چرس کا استعمال کریں تو اس بات کا  قوی امکان ہے کہ آپ اس کے عادی ہو جائیں گے۔

   اسکنک (skunk)اور دیگر زیادہ طاقتور اقسام

   روایتی ہربل چرس میں ایک سے پندرہ فیصد تک سب سے اہم  سائیکوایکٹیو جزو ٹی ایچ سی (THC)  شامل ہوتا ہے۔ کچھ نئی اقسام بشمول اسکنگ میں یہ جزو  بیس فی صد ہوتا ہے اس لیے روایتی ہربل چرس کی نسبت یہ تین گنا زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ یہ زیادہ تیزی سے کام کرتی ہے اور گہرے سکون اور حد سے زیادہ خوشی کے احساس کے ساتھ ہیلوسینیشن(hallucinations) پیدا کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ  گھبراہٹ ، پریشانی، الٹیاں اور کھانا کھانے کی شدید خواہش بھی ہوتی ہے۔ کچھ افراد اس کو ایکسٹیسی یا ایل ایس ڈی کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

   گوکہ اب تک کم تحقیق کی گئ ہے لیکن اس بات کا امکان ہے کہ چرس کی یہ زیادہ طاقتور اقسا م  ذہنی بیماریوں کو پیدا کرنے کے  لیے زیادہ بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ ایک اہم زیر تکمیل ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ چرس کی طاقتور اقسام استعمال کرنے والوں میں توجہ اور یادداشت کے مسائل ہوتے ہیں۔

   چرس کے استعمال سے ہونے والے مسائل

   بہت سارے،  بلکہ شاید زیادہ تر چرس استعمال کرنے والے افراد اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن کچھ  لوگوں کے لیے یہ مسئلہ بن جاتی ہے۔

   “اگر چرس ہماری زندگی اور سوچ کو کنٹرول کرتی ہو اور ہماری خواہشات کا مرکز ماری وانا (چرس کی ایک قسم) کا حصول، اس کا استعمال اور اس کے نشے سے سرور حاصل کرنا ہو تو دیگر تمام چیزوں میں ہماری دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ “

   اگر ان سوالات میں سے کسی کے لیے بھی آپ کا جواب “ہاں” میں ہو تو ہو سکتا ہے آپ کی چرس استعمال کرنے کی عادت آپ کے لیے مسئلہ بن چکی ہو۔

   کیا چرس استعمال کرنے میں آپ کو اب مزہ آنا ختم ہو گیا ہے؟

   کیا آپ کبھی اکیلے میں سرور کی حالت میں آئے ہیں؟

   کیا آپ کے لیے ماری وانا کے بغیر زندگی کا تصور کرنا مشکل ہے؟

   کیا آپ کے دوست آپ کے ماری وانا استعمال کرنے کے فیصلے سے متفق ہیں؟

   کیا آپ اپنے مسائل کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے ماری وانا پیتے ہیں؟

   کیا آپ اپنے جذبات پر قابو پانے کے لیے پوٹ اسموکنگ کرتے ہیں؟

   کیا ماری وانا کے استعمال کی وجہ سے آپ اپنی ایک محدود دنیا میں رہ رہے ہیں؟

   کیا آپ کبھی ڈوپ اسموکنگ کم کرنے یا اس کو چھوڑنے کا وعدہ پورا  کرنے میں ناکام ہوئے ہیں؟

   کیا ماری وانا کی وجہ سے یادداشت، توجہ یا چیزوں میں دلچسپی کی کمی جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں؟

   جب آپ کا چرس کا ذخیرہ ختم ہوتا ہے تو کیا آپ یہ سوچ کر مضطرب یا پریشان ہوجاتے ہیں کہ مزید ذخیرہ کیسے حاصل کیا جائے؟

   کیا آپ ماری وانا کے استعمال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں؟

   کیا آپ کے دوستوں یا رشتے داروں نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ پوٹ اسموکنگ کی وجہ سے ان سے آپ کے تعلقات خراب ہورہے ہیں؟

   چرس کے استعمال میں کمی کیسے کی جائے؟

   نور ہیلتھ زندگی کے ہوم آفس نے حال میں ایک ایسی گائیڈ شائع کی جس میں ایسی بہت سی باتیں ہیں جن پر عمل کرکے آپ کامیابی سے چرس کا استعمال ترک کرسکتے ہیں مثلاً:

   · ان وجوہات کی فہرست بنائیں جن کی بنائ پہ آپ چرس چھوڑنا چاہتے ہیںنشہ کی عا دت: اسباب و محرکات۔

   دُنیا بھر میں نشے کے بڑھتے ہوئے استعمال نے پوری انسانیت کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ دنیا بھرمیں پینتیس کروڑ لوگ نشے کی علت کا شکار ہو کر دھیرے دھیرے ایک درد ناک انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جن میں سے ہر سال 80،90 لاکھ کے قریب جان کی بازی ہار جاتے ہیں، لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں اور غیر حکومتی تنظیموں کی تمام تر کوششوں اور اہل درد کی چیخ و پکار کے باوجود دُنیا میں ہر سال ایک کروڑ کے لگ بھگ نئے لوگ اس لعنت کا شکار ہورہے ہیں، یوں نشے کے عادی افراد کی تعداد کم ہونے کی بجائے ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ نشہ صرف جسمانی اذیت و بربادی کا ہی باعث نہیں، نشے کے باعث نسلیں تباہ ہور ہی ہیں، قدریں پامال ہو رہی ہیں،گھر بکھر رہے ہیں ، خاندان اُجڑ رہے ہیں، رشتے ناتے ٹوٹ رہے ہیں، جرائم بڑھ رہے ہیں،حادثات بڑھ رہے ہیں،غیر طبعی موتیں واقع ہو رہی ہیں،انسانی جان بے قدرو قیمت ہو رہی ہے، کام کاج کے قابل لوگ معذور اور ناکارہ ہوتے جارہے ہیںاور انسانیت سسکیاں لے رہی ہے…. اور صرف یہی نہیں، نشہ تمام خباثتوں کی ماں اور ہر برائی کی چابی ہے۔ نشہ انسان سے چھوٹے بڑے، بُرے بھلے اور رشتوں کی تمیز اور تقدس چھین لیتا ہے ۔ نشہ انسان کی خودی، عزت نفس اور غیرت کو ختم کر دیتا ہے۔ نشہ انسان کو اشرف المخلوقات سے اسفل المخلوق بنا دیتا ہے ۔

   اگر ہمیں دُنیا اور انسانیت کوبچانا اورمنشیات کے بڑھتے ہو ئے پھیلاو¿اور استعمال کو روکنا ہے توہمیں علاوہ دیگر اہم اقدامات کے نشے کی عادت کا سبب بننے والے حالات و محرکات پر ایک نظر ڈالنا ہو گی اور مل جل کر انہیں ختم کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں کی گئی مختلف تحقیقات، مشاہدات ا ور تجزیات مندرجہ ذیل اسباب وحالات و محرکات کی نشان دہی کرتے ہیں:

   (1) نشہ آور دواﺅں کا بے جا استعمال : عام طور پر ڈاکٹر اپنے مریضوں کو ان کی کسی مخصوص تکلیف کے پیش ِنظر سکون آور ادویات تجویز کرتے ہیں جو ایک خاص مدت کے لئے اور خاص مقدار میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر ان دوران کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ازخود اور لمبے عرصے تک استعمال کیا جائے، تو ایسا کرنے والے کا جسم اِن ادویات کا عادی ہو جاتا ہے، پھر بغیرکسی ضرورت و تکلیف کے وہ محض وقتی سکون کے لئے اسے باربار استعمال کرتا ہے، یوں یہ ادویات اُس کو نشے کی طرح لگ جاتی ہیں، جس کے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔

   (2) اکتا ہٹ: انسان فطرتاًتنوع پسند ہے ۔ وہ یکسانیت سے اکتا جاتا ہے ۔ ایک ہی طرح کے ماحول میں ایک ہی جیسا کام کر کے یا ایک ہی طرح دن رات گزارتے گزارتے اس کی طبیعت میں بے زاری پیدا ہو جاتی ہے اور وہ نئے مشاغل کی تلاش میں نکل کھڑا ہو تا ہے ۔نئے مشاغل، نئے دوستوں اور نئی محفلوں میں بیٹھ کر بسا اوقات وہ کوئی نشہ کر بیٹھتا ہے اور پھر کوئی روک ٹوک نہ ہونے پر اِس کا عادی ہو جاتا ہے ۔

   (3) تجسّس: تجسّس یا کسی چیز کی کھوج لگانا انسانی فطرت ہے ۔ بعض لوگ، خاص طورپر نوجوان یہ دیکھنے کے لئے کہ نشہ کیا ہوتاہے ،اِس کے استعمال سے انسان کیا محسوس کرتا، تجزیاتی طورپر کسی عام نشہ آور چیز کا استعمال کر بیٹھتے ہیں ، پھر انہیں اس کی عادت پڑ جاتی ہے۔

   (4) فیشن : لوگ ،خاص طور پر طالب علم اپنے ساتھیوں کو سگریٹ نوشی ، شیشہ نوشی یا دیگر نشہ آور اشیاءاستعمال کرتے دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ شاید یہ بھی کو ئی فیشن اور وقت کی ضرورت ہے۔ یار دوست بھی عموماًاِس کی ترغیب دیتے ہیں اور بعض تو اصرار کرتے ہیں۔ اس طرح محض فیشن اور نئے انداز و اطوار اپنانے کی کوشش میں وہ نشے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

   (5) بے روزگاری: بے کاری ، بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ انسان کو نشے کی طرف دھکیلنے کے اسباب میں بہت اہم ہیں ، جب آدمی کے پاس وقت گزارنے کے لئے کوئی ڈھنگ کا کام نہ ہو یا وہ بے روزگارہو تو پریشانی ، بے سکونی اور مایوسی کے عالم میں اِس خام خیالی کے تحت کہ نشہ سکون دیتا ہے، وہ کسی بھی وقت نشے کی طرف مائل ہوجاتا ہے ۔ دولت مندوں، خاص طورپر امیر زادوں کا معاملہ اس سے اُلٹ ہے ۔ وہ فیشن یا عیش و عشرت کی علامت کے طور پرنشہ کرنے لگتے ہیں ۔

   (6) گھریلو جھگڑے : عام طور پر نو عمر بچے اور نوجوان گھریلو جھگڑوں ، ماں باپ کی لڑائیوں اور دیگر ناموافق حالات سے تنگ آکر مایوسی اور فرسٹریشن میں کوئی اور راہ نہ پا کر نشہ آور اشیاءاستعمال کرنے لگتے ہیں۔ گھریلو جھگڑوں سے پریشان ہو کر بڑی عمر کے لوگ بھی وقتی سکون کی خاطر منشیات کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں ۔

   (7) منشیات کی آسانی سے دستیابی: منشیات فروشی پر پابندی کے باوجود متعلقہ اداروں کی غفلت ، چشم پوشی یا ملی بھگت کی وجہ سے منشیات فروش اس دھندے کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جہاں سے ہرکس و ناکس کو ذرا سی کو شش کے بعد نشہ آور اشیا ءبآسانی مل جاتی ہیں اور وہ اُس کے عادی ہو جاتے ہیں۔

   (8) منشیات کے خطرات سے لاعلمی : جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے عوام کی اکثریت اپنی صحت کے بارے میں لاپرواہ ہے ۔ اسی طرح نشہ آور اشیاءکے استعمال سے جسم و جان کوجو خطرات لاحق ہوتے ہیں، اُن کے بارے میں عوام الناس کو اول تو شعور اور آگاہی نہیں ہے ، اگر ہو بھی تو وہ اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے اور بے دھڑک نشہ آور اشیاءکا استعمال شروع کر دیتے ہیںاور سمجھتے ہیں کہ انہیں کچھ نہیں ہوگا۔

   (9) والدین اور اساتذہ کا نامنا سب رویہ : نئی نسل اور سکولوں، کالجوں میں زیر ِ تعلیم نوجوانوں میں نشہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ خاص طور پر اشرافیہ کے لئے مخصوص اور بڑے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباءمیں یہ رحجان بہت جڑ پکڑ رہا ہے اور اسے بُرا بھی نہیں سمجھا جاتا۔بعض اوقات والدین اور اساتذہ کا غیر مشفقانہ ، درشت اور توہین آمیز رویہ بھی حساس طبیعت رکھنے والے بچوں کو نشے کی طرف مائل کر دیتا ہے ۔ مختلف دکانوں پر کام کرنے والے استاد لوگ اپنے غریب شاگردوں کو عام طور پر گالیوں سے نوازتے اور مار پیٹ کرتے ہیں ۔ ان حالات کے شکار کمسن بچوں کو گلو، پینٹ اور پٹرول وغیرہ سونگھ کر نشہ کرتے دیکھا گیا ہے یا اُن کو اِس طرف لگادیا جاتا ہے۔

   (10) ناکامیاں : عموماً تعلیم، کھیل کے میدان یا کاروبار اور روزگار کے معاملات میں ناکامیوں سے دل برداشتہ طالب علم و دیگر افرادمایوسی اور دل شکستگی میں اور بعض اوقات بعض لوگ عملی زندگی سے فرار حاصل کرنے کے لئے نشے میں پناہ ڈھونڈلیتے ہیں ۔

   مندرجہ بالا تمام اسبا ب وحالات و محرکات ہمارے گھر، خاندان اور معاشرے کے اندر ہمارے درمیان پلتے ، پھلتے اور پھولتے ہیں اور ہم سب دانستہ یا نادانستہ ، شعوری یا غیر شعوری طور پر اِس سے لا تعلق رہتے ہیں یا ایک مشکل اور محنت طلب مسئلہ جان کراِس سے پہلوتہی کر لیتے ہیں،یوں اپنے اردگرد رہنے والوں اور اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذلت ، و رسوائی اور تباہی کے گڑھے میں گرنے دیتے ہیں۔ اس بات کا احساس کئے بغیر کہ کل اس ذلت ، بربادی اور تباہی کے اثرات ہمارے اوپر بھی مسلط ہو نے والے ہیں۔ آئیے ہم اپنی ضروری یا غیرضروری ، معقول یا غیرمعقول ، بامقصد یا بے مقصد مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر انفرادی یا اجتماعی طور پر قدم بڑھاتے ہوئے اولاً اپنے گردو پیش میں رہنے والے ان لوگوں کو نشے کی علت کا شکار ہو نے سے بچا لیں ، جوخوشی قسمتی سے اب تک اس سے بچے ہوئے ہیں اور ثانیاً: ہاتھ بڑھاکر اُن بدقسمتوں کو منشیات کی دلدل سے کھینچ نکالیں، جو ہم جیسے عقل و شعور رکھنے والوں اور کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہونے والوںکی مجرمانہ غفلت ، لاپرواہی اور چشم پو شی کا شکار ہو کر اِس میں آ گرے ہیں۔ہمیں اِن دونوں گروہوں کو بچانا ہو گا۔ یا د رکھیئے جب تک سب محفوظ نہیں، کوئی بھی محفوظ نہیں ۔ اگر آپ کے دائیں بائیں ، آگے پیچھے اور اوپر نیچے منشیا ت فروشی کا دھندہ بے رو ک ٹوک چلتا رہا اورہماری نوجوان نسل کسی نہ کسی سبب اُن کا شکار ہوتی رہی، اور ہمارے گھروں ، گلی کوچوںاور سڑکوں پر نشے کے عادی لوگوں کے نیم مردہ لاشے اسی طرح پڑے نظر آتے رہے تو وہ دن دور نہیں، جب ہم یا ہمارے بچے بھی اُن میںسے ایک ہوں گے۔ آخر ہم کب تک بچیں گے !آخر ہم نے اپنے اور اپنے بچوں کو اِس لعنت سے بچانے کا کیا بندوبست کیا ہے ہر ماں باپ کو چائیے ہے کہ ا پنے بچوں کی نگرانی کریں اور اس نشے جیسے لعنت سے بچائیں۔مذید سوالات اور جوابات کے لیے نور ہیلتھ زندگی کے ساتھ ای میل اور واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ noormedlife@gmail.com

Leave a Comment

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s