گردن توڑ بخار کی علامات اور علامات۔

Noor Health Life

    دنیا بھر میں گردن توڑ بخار کا عالمی دن 24 اپریل کو منایا جاتا ہے۔  اس دن میں اس سے امن کو فائدہ پہنچانے کے لیے سی سیمینارز اور مختلف لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ بخار کے علامات، علاج اور بچاؤ سے امن کیا جا سکتا ہے۔  ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک سال یہ بخار میں ایک ڈالر سے زائد افراد کو متاثر کرتا ہے۔  گردن توڑ بخار ہر عمر کے افراد کو اپنی لپیٹ میں لے جا سکتا ہے وہ بچہ ہو جوان ہو یہ بوڑھا ۔  اسکا بروقت علاج بہت ضروری ہے۔

    گردن توڑ بخار کی شمالی

    انسانی دماغ اور حرام مگ کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں اور انکو تین محفوظوں کی وجہ سے یہ مختلف علاقائی اور جھلیوں سے محفوظ ریاستوں میں بھی بہت سی مقامی طاقتوں کی بیماری کی وجہ سے بنتا ہے۔  یہ جھلیاں سر پے چوٹ لگنے سے یہ خون میں جراثیم میں شامل ہونے سے بخار میں انفیکشن ہونے سے بھی متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ بیماری متاثر ہوتی ہے۔  ۔

    گردن توڑ بخار کی علامت

    1. گردن توڑ بخار میں سب سے پہلے مریض کو بخار ہو جاتا ہے۔
    2. اگر یہ بخارا بچے کو ہو تو وہ مسلسل روتا ہے۔
    3. کچھ بھی کھانے پینے کو دل نہیں کرتا۔
    4. بخار کی شدت اختیار کرتا ہے جیسے مریض کو جھٹکے لگاتے ہیں۔
    5. جسم پر لال رنگ کے دھبے پڑنا
    6. لوگ میں چمک ختم ہو جاتا ہے کے پپٹے بہت تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔
    7. اسکی سب سے اہم علامت میں سے ایک کا نہ مڑنا گردن حل نہیں ہے اور مریض گردن کی وجہ سے نہیں پاتا گردن ٹوٹا ہوا بخارا مستقبل میں خود کو ثابت کرتا ہے؟

    جینیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گردن توڑ اور دیگر کی وجہ سے برابر میں پانچواں شخص قوتِ سماعت کے مسائل کا شکار ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت دنیا میں متعدد افراد کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔

    عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ

    کے مطابق گردن توڑ بخار میں براہ راست اور اس پاکستان سے فرقی نہ ہونا بہت سنگین ثابت ہوا ہے کیونکہ گردن توڑ کا راستہ اختیار کرنے والے قوتِ رائے سے ہے۔

    ماہرین کے مطابق دماغی اور قوتِ قوت کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے دماغ کو دماغی طبی والے پیغام کا سلسلہ منقطع بخارا سے متاثر ہوتا ہے۔

    ایچ ایچ او کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’عوامی مقام پر شور کم کرنے اور بروقت طبی امداد فراہم کرنا ہی اس سنگین صورت حال سے نمٹا ہے‘۔

    اقوام متحدہ کے ایچ او سے جاری ہونے والے سوال سے متعلق عالمی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ‘آنے والی تینوں فریقین میں سماعت کرنے والے افراد کی تعداد 1. 5 فیصد سے زیادہ لوگ گی، یعنی ہرپانچو کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔’  ۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’سماعت‘ مسائل میں مسائل کی وجہ سے، ڈیموگرافک شور کی وجہ سے عوامی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں طاقت کے ماہرین کے مسائل کی بھی تذکرہ کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ کم افراد والے ممالک میں صحت کی عدم فراہمی اور طبی ماہرین کی عدم دستیابی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ‘ایسے ممالک میں 80 فیصد افراد قوتِ سماعت کے دوچار مسائل ہیں، جن سے زیادہ تر کو طبی امداد نہیں مل رہی، جبکہ آبادی کی وجہ سے بھی امیر صحت کی رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔  کرپار بجلی  مزید سوالات اور جوابات حاصل کرنے کے لیے مزید زندگی کے ساتھ ای میل کر سکتے ہیں۔  noormedlife@gmail.com

Leave a Comment

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s