پیشاب کی نالی میں سوزش کی 8 علامات۔

Noor Health Life

   پیشاب کی نالی میں سوزش کافی تکلیف دہ مرض ہوتا ہے جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کافی لوگ ہچکچاتے بھی ہیں۔

   مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس سوزش یا یو ٹی آئی کی علامات انتہائی واضح ہوتی ہیں بلکہ اکثر انہیں بیماری کے آغاز سے پہلے ہی پہچانا جاسکتا ہے؟

   نور ہیلتھ زندگی کا کہنا ہے کہ اس سوزش کی علامات واضح ہوتی ہیں مگر اکثر افراد انہیں نظرانداز کردیتے ہیں۔

   تاہم اگر آپ پیشاب کی نالی کے مرض کی شناخت کرنا چاہتے ہیں تو ان علامات کو ضرور یاد رکھیں۔

   پیشاب کی نالی میں سوزش سے بچنا آسان

   ہر وقت پیشاب کی خواہش

   یہ یوٹی آئی کی عام علامت ہے جس میں آپ کو ہر وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پیشاب آرہا ہے چاہے آپ ابھی واش روم سے ہی ہو کر کیوں نہ آئے ہو، آپ کو اس حوالے سے ایمرجنسی کا احساس بھی ہوسکتا ہے یعنی ابھی فوراً جانا ضروری ہے وغیرہ۔

   بہت کم پیشاب آنا

   جب آپ واش روم جائیں تو پیشاب بہت کم آئے، آپ کو محسوس ہو کہ مزید کرنا ہے مگر کوشش کے باوجود نہ ہوسکے یا آپ کو اطمینان نہ ہو۔

   جلن کا احساس

   اس بیماری کے دوران واش روم جانے پر جلن کا احساس ہوسکتا ہے، آپ کو ایسا لگتا ہے کہ یہ کام انتہائی تکلیف دہ ہے، اس کے علاوہ درد بھی ہوسکتا ہے، دونوں صورتوں میں یہ خرابی کی ہی علامت ہوتا ہے۔

   خون آنا

   یو ٹی آئی کے مرض میں اکثر پیشاب میں خون آتا ہے تاہم ضروری نہیں کہ ہر کسی کے ساتھ ایسا ہو، اسی طرح وہ دیکھنے میں دھندلا بھی ہوسکتا ہے۔

   بو آنا

   مثانے میں کسی بھی قسم کے انفیکشن کے نتیجے میں پیشاب کی بو بہت بری جاتی ہے، اگر آپ کو بھی بدبو کے ساتھ اوپر دی جانے والی علامات میں سے کسی کا تجربہ ہو تو یہ یوٹی آئی کا مرض ہوسکتا ہے، اس صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اس کی ہدایات کے مطابق ٹیسٹ کروائیں۔
   پیشاب کی نالی میں سوزش کی عام وجوہات

   پیشاب کی رنگت

   پیشاب کی رنگت بہت کچھ بتا سکتی ہے، بشمول پیشاب کی نالی میں انفیکشن کے۔ اگر یہ رنگت زرد یا شفاف سے ہٹ کر کچھ اور ہو تو یہ فکرمندی کی نشانی ہے۔ سرخ یا بھوری رنگت انفیکشن کی علامت ہے، تاہم پہلے یہ دیکھ لیں کہ آپ نے ایسی کوئی غذا تو نہیں کھائی جس کی رنگت گلابی، نارنجی یا سرخ ہو۔

   انتہائی شدید تھکاوٹ

   پیشاب کی نالی میں سوزش درحقیقت مثانے کا انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے، کسی بھی طرح انفیکشن کے نتیجے میں جب جسم کو اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ غلط ہورہا ہے، تو ورم پیدا ہونے لگتا ہے، حفاظتی اقدامات کے ساتھ وہ خون کے سفید خلیات کو خارج کرتا ہے، جس کے نتیجے میں تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔

   بخار

   دیگر علامات کے ساتھ اکثر بخار بھیپیشاب کی نالی میں سوزش کی شدت میں اضافے اور اس انفیکشن کا گردوں کی جانب پھیلنے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اگر 101 فارن ہائیٹ سے زیادہ کا بخار ہو یا ٹھنڈک محسوس ہوتی ہو یا رات کو سوتے ہوئے جسم پسینے میں بھیگ جاتا ہو تو فوری طور پر طبی امداد سے رجوع کرنا چاہئے۔پیشاب کی نالی میں سوزش کا باعث بننے والی عام وجوہات۔

   پیشاب کی نالی میں سوزش کافی تکلیف دہ مرض ہوتا ہے اور اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کافی لوگ ہچکچاتے بھی ہیں۔

   اس انفیکشن یا سوزش کے نتیجے میں گردوں کے متاثر ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور عام طور پر اس کی علامات پیشاب میں شدید جلن اور درد کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں، جبکہ اکثر پیشاب کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے، رنگت بدل جاتی ہے اور بخار بھی ہوسکتا ہے، جو کہ سنگین صورتحال میں ہی چڑھتا ہے۔

   اسی طرح پیشاب میں خون آنا اور بدبو دار ہونا بھی اس کی علامات ہیں۔

   اگر اس بیماری کو نظرانداز کیا جائے یا اس کو پہچانہ نہ جاسکے تو یہ مثانے سے گردوں تک پھیل جاتا ہے اور گردوں کی سوزش کا باعث بن سکتا ہے جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

   ویسے تو اس کی چند وجوہات ایسی ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہے جیسے عمر بڑھنا، خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے، حمل، گردوں میں پتھری، ذیابیطس اور الزائمر امراض وغیرہ۔

   مگر طرز زندگی کی بھی کچھ عادات ایسی ہوتے ہیں جو اس مرض کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔

   صفائی کا خیال نہ رکھنا

   درحقیقت جسمانی صفائی کا خیال نہ رکھنا بھی اس بیکٹریا کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھتا ہے۔

   پانی کم پینا

   نور ہیلتھ زندگی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ پانی زیادہ پینے کی عادت پیشاب کی نالی کی سوزش کا خطرہ کم کرتی ہے، خصوصاً خواتین کے لیے تو یہ عادت بہت ضروری ہے۔ تحقیق کے مطابق اس تکلیف دہ مرض سے بچنے کا آسان اور محفوظ طریقہ انفیکشن کی روک تھام کرنا ہے اور عام معمول سے ایک لیٹر زیادہ پانی پینا اس بیماری سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق خواتین میں اس مرض کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے تاہم مردوں کو بھی اس احتیاط پر عمل کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ پانی پینے سے مثانے میں اکھٹا ہونے والے بیکٹریا کو نکالنا آسان ہوجاتا ہے اور ان کا اجتماع نہیں ہوپاتا جو کہ اس مرض کا باعث بنتے ہیں۔

   تنگ کپڑوں کا استعمال

   تنگ کپڑوں کا اکثر استعمال پیشاب کی نالی میں سوزش یا انفیکشن جیسے تکلیف دہ مرض کا باعث بن سکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ برسات یا مون سون کے موسم میں بارش اور نمی جراثیموں کی نشوونما کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور ٹائٹ یا تنگ کپڑوں کا استعمال پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

   پیشاب روک کے رکھنا

   کسی کام کی وجہ سے، سستی یا کوئی بھی وجہ ہو، ہم میں سے ہر ایک ایسا ہوتا ہے جو پیشاب کو روک کر بیٹھا رہتا ہے اور یہ کوئی برا بھی نہیں مگر اس وقت جب تک ایسا بہت زیادہ نہ کرنے لگے یا عادت ہی نہ بنالیں۔ اگر ایسی عادت بنالی جائے تو وہ انتہائی سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے نقصان دہ بیکٹریا کی نشوونما بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھتا ہے۔پیشاب کے اخراج کے دوران مَثانے اور پیشاب کی نالی کے اندر پریشر معلوم کرنے کا طریقہ (VCUG) کیا ہوتا ہے۔

  پیشاب کے اخراج کے دوران مَثانے اور پیشاب کی نالی کے اندر پریشر معلوم کرنے کے طریقہ (VCUG ) کا ایک خاص یسٹ ہے جو ایکسریز کو استعمال کرتے ہوئے یہ ظاہر کرے گا کہ جب آپ کا بچہ پیشاب کرتا ہو تو کیا ہوتا ہے۔

  پیشاب آور نظام (زنانہ )

  وی سی یو جی (VCUG) ” وائڈنگ سسٹویو ریتھروگرام” ) کا مخفف ہے جس کا مطلب ہے پیشاب کرنا۔ “سسٹو” مثانے کے لئے ہے۔ “یوریتھرو” برائے یوریتھرا ہے، یعنی وہ نلکی جو مثانے سے پیشاب کو خالی کرتی ہے۔ “گرام” کا مطلب ہے تصویر۔ لہذا وی سی یو جی (VCUG) پیشاب کے مثانے سے یوریتھرا کے ذریعے خارج ہونے کی تصویر ہے۔

  ٹیسٹ میں ایک خاص قسم کی رطوبت استعمال ہوتی ہے جسے کنٹراسٹ میڈیم کہتے ہیں تاکہ ایکسرے میں پیشاب کو بہتر طور پر ظاہر کیا جائے۔

  اپنے بچے کو ٹیسٹ کے لئے تیار کرنا

  یہ معلومات دھیان سے پڑھنے اور اپنے بچے کو واضح کرنے کے لئے وقت لیں۔ ایسے بچے جنہیں یہ معلوم ہو کہ کس بات کی توقع رکھنی چاہئے، وہ کم بے چین ہوتے ہیں۔ ٹیسٹ کے بارے میں اپنے بچے کو اُن الفاظ میں بتائیں جو وہ سمجھتا ہے، مع اُن الفاظ کے جو آپ کا خاندان استعمال کرتا ہے کہ جسم کیسے کام کرتا ہے ۔

  ٹیسٹ کا ایک حصہ ہونے کے ناطے، ایک چھوٹی نلکی جسے کیتھیٹر کہتے ہیں آپ کے بچے کے یوریتھرا میں لگائی جائے گی۔ کیتھیٹر کو لگانا تکلیف دہ ہوگا۔ لیکن آپ کا بچہ اگر پُرسکون رہے گا تو اس کا لگانا زیادہ آرام دہ ہو گا۔ آپ اپنے بچے کو اس طرح سکھا سکتے ہیں کہ وہ آہستہ گہرے سانس لے کر پُر سکون ہو سکتا ہے۔ اپنے بچے کو جنم دن کی موم بتیوں کو بجھانے، غُبارے میں ہوا بھرنے یا بُلبلے چھوڑنے کی نقل کرنے کو کہیں۔ ہسپتال میں آنے سے پہلے گھر پر سانس کی یہ مشق کروائیں۔

  نوعمر بچے کبھی کبھار کوئی آرام دہ چیز ٹیسٹ کے دوارن پکڑنے کے لئے لے آتے ہیں۔ آپ کا بچہ روئی بھرا کھلونا یا کوئی کمبل گھر سے لا سکتا ہے۔

  والدین میں سے ایک ٹیسٹ کے دوران ہمہ وقت بچے کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اگر آپ حمل سے ہیں، جب تک کیتھیٹر لگائی جائے، آپ کمرے میں رہ سکتی ہیں۔ لیکن آپ نے بچے کے ایکسرے کے دوران لازماً کمرہ چھوڑنا ہے۔

  آپ نے اپنے بچے کو یہ بتا نا ہوگا کہ ڈاکٹر یا ٹیکنالوجسٹ اُس کے مخفی حصوں کو چھو سکتے ہیں تاکہ اُنہیں صاف کریں اور اُن میں نلکی لگائیں۔ آپ اپنے بچے کو بتائیں کہ آپ نے اُنہیں چھونے کی اجازت دی ہے کیوں کہ ٹیسٹ بچے کی مدد کرے گا۔

  ٹیسٹ دو ٹیکنالوجسٹ کریں گے

  ٹیکنالوجسٹ، کیتھیٹر کو لگانے اور ایکسرے لینے میں خصوصی طور پر تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار ریڈیولوجسٹ بھی ٹیسٹ کے دوران لازماً کمرے میں ہوتا ہے۔ ریڈیولوجسٹ ایکسرے پڑھتا ہے۔

  پیشاب آور نظام (مردانہ )

  منسوخ شدہ

  ایکسرے ٹیکنالوجسٹ آپ کے بچے کو ٹیسٹ کے لئے اس طرح بتاتے ہوئے تیار کرے گا کہ اُس دوران کیا ہوگا۔ ریڈیولوجسٹ آپ کے بچے کے آلہء تناسل یا یوریتھرا کو جانے والی جگہ کو صاف کرے گا۔ پھر ٹیکنالوجسٹ مڑنے کے قابل نلکی کو اُس کھلی جگہ میں لگائے گا۔ کیتھیٹر ایک لمبی، پتلی، نرم، ملائم نلکی ہے جو یوریتھرا سے ہوکر مثانے میں جاتی ہے۔ ٹیکنالوجسٹ جیسے جیسے وہ کر رہے ہوں گے، ہر موڑ پر اُس کی وضاحت کریں گے۔

  اگر آپ کے بچے کو کوئی دل کا عارضہ ہے

  آپ کے بچے کا کوئی بھی ٹیسٹ ہونے سے پہلے اُسے اینٹی بائیوٹکس کھانی پڑ سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے بچے جنہیں دل کا عارضہ لاحق ہو اُنہیں دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے اینٹی بائیوٹکس لینی پڑتی ہیں۔ اینٹی بائیوٹک ایسی دوا ہے جو انفیکشن کو ختم کرتی ہے۔ اگر آپ کے بچے کو اس دوا کی ضرورت ہے تو براہ مہربانی تو اُس ڈاکٹر کو بتائیں جو آپ کے بچے کو وی سی یو جی لگانے کو کہہ رہا ہے۔ ڈاکٹر آپ کے بچے کو وی سی یو جی لگانے سے پہلے یہ دوا حاصل کرے گا۔

  وی سی یو جی عام طور پر ہسپتال میں کرتے ہیں

  پیشاب کے اخراج کے دوران مَثانے اور پیشاب کی نالی کے اندر پریشر شعبہ ڈائیاگناسٹک امیجنگ میں معلوم کیا جاتا ہے۔ اسے اکثر ایکسرے کا شعبہ بھی کہتے ہیں۔ اگر آپ کو اس شعبہ کے مقام کے بارے میں علم نہیں تو مین ریسیپشن سے معلوم کریں۔

  یہ معائنہ 20 تا 30 منٹ کا ہوتا ہے۔ ٹیسٹ کے بعد آپ کو اس شعبہ میں قریباً 15 منٹ تک ٹہرنا ہوگا جب تک کہ خاکے تیار ہو رہے ہوں گے۔

  ٹیسٹ کے دوران

  جب آپ شعبہ ڈائیاگناسٹک امیجنگ میں داخل ہو جائیں گے تو آپ کے بچے کو کسی ایک کپڑے بدلنے والے کمرے میں، ہسپتال کا گاؤن پہنا دیا جائے گا۔ پھر آپ کے بچے کو ایکسرے کے کمرے میں لے جایا جائے گا۔ والدین میں سے صرف ایک بچے کے ساتھ جا سکے گا۔

  ایکسرے کے کمرے میں

  ایک مرتبہ جب آپ اور آپ کا بچہ ایکسرے کے کمرے میں ہوں گے تو ٹیکنالوجسٹ آپ کو کہے گا کہ اپنے بچے کا انڈر ویئریا ڈائیپر اُتاریں۔ پھر آپ کا بچہ ایکسرے کی میز پر لیٹ جائے گا۔ ایک حفاظتی بند آپ کے بچے کے پیٹ یا ٹانگوں پر لگایا جا سکتا ہے تا کہ اس بات کا دھیان رکھا جائے کہ آپ کا بچہ محفوظ ہے۔

  میز کے اوُپر کیمرہ تصاویر اُتارے گا۔ ٹیکنالوجسٹ ٹیلیویژن کا پردہ استعمال کرے گا تا کہ وہ یہ دیکھے کہ ٹیسٹ کے دوران کیا ہو رہا ہے۔

  جب ٹیکنالوجسٹ ایکسرے کر رہا ہوگا تو آپ کے بچے کو جس قدر ممکن ہو ساکت رہنا ہو گا تاکہ بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ آپ اپنے بچے کے ہاتھوں کو ہلکا سا اوپر کرکےسینے تک پکڑ سکتے ہیں تاکہ بچے کا کسی بھی طرف دھیان بٹا سکیں۔ مثال کے طور پر آپ نظم یا گیت گا سکتے ہیں۔

  کیتھیٹر کا لگانا

  ایکسرے ٹیکنالوجسٹ آپ کے بچے کی مخفی جگہوں کو صاف کرکے نلکی لگا کر ٹیسٹ کا آغاز کرے گا۔ کیتھیٹر مثانے کو خود ہی خالی کر دے گا۔

  کیتھیٹر کو پھر ایک بوتل کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا جس میں کنٹراسٹ میڈیم ہوگا۔ یہ کنٹراسٹ میڈیم نلکی سے ہوتا ہوا مثانے کے اندر بہے گا۔ یہ ٹیکنالوجسٹ کو مثانےاور یوریتھرا کے اندر بہتر طور پر مشاہدہ کرنے دے گا۔ آپ کا بچہ کنٹراسٹ کو محسوس کر سکے گا جیسے جیسے وہ مثانے سے گزرے گا۔ یہ ٹھنڈا محسوس ہو سکتا ہے لیکن یہ تکلیف دہ محسوس نہیں ہوگا۔

  جب کنٹراسٹ میڈیم مثانے کے اندر بہہ رہا ہوگا تو ایکسرے ٹیکنالوجسٹ کچھ ایکسرے لے گا۔ جب آپ کے بچے کا مثانہ بھرا ہو گا تو آپ کے بچے کو بستر کے پین یا ڈائیپر میں پیشاب کرنے کو کہا جائے گا۔ آپ کا بچہ جیسے ہی پیشاب کرتا ہے تو کیتھیٹرخود ہی آسانی سے باہر آجائے گا۔ جب آپ کا بچہ پیشاب کر رہا ہوگا تو ٹیکنالوجسٹ کچھ ایکسرے لے گا۔ یہ ٹیسٹ کی اہم ترین تصاویر ہیں۔

  ٹیسٹ ہو جانے کے بعد

  ایکسرے ٹیکنالوجسٹ آپ کو بتائیں گے کہ کپڑے بدلنے والے کمرے میں کیسے پہنچنا ہوگا تاکہ بچہ اپنے کپڑے پہن سکے۔ پھر آپ انتظار گاہ میں بیٹھیں۔ ایکسرے کے خاکوں کو چیک کرلینے کے بعد ٹیکنالوجسٹ آپ کو بتائیں گے کہ آپ کب جا سکتے ہیں۔

  اگر کلینک میں آپ کی کوئی ملاقات ہے کہ ٹیسٹ کے بعد آپ ڈاکٹر کو دیکھیں تو ٹیکنالوجسٹ کو بتائیں۔ وہ اس بات کا دھیان رکھیں گے کہ آپ کے نتائج کلینک کو بھجوائے جاتے ہیں۔ اگر ٹیسٹ کے بعد آپ ڈاکٹر سے نہیں مل رہے تو نتائج آپ کے بچے کے ڈاکٹر کو ایک ہفتے کے اندر بھجوا دئے جائیں گے۔

  اپنے بچے کو گھر پر بہت سے مائع مشروبات دیں

  ٹیسٹ ہو جانے کے بعد کچھ مرتبہ جب آپ کا بچہ پیشاب کرے گا تو اُسے کچھ تکلیف جیسے کہ پیشاب میں جلن محسوس ہو سکتی ہے۔ آئندہ ایک دو دن تک اپنے بچے کو بہت سے مائع مشروبات پینے کو دیں جیسے کہ پانی یا سیب کا جوس۔ مشروبات کے پینے سے آپ کے بچے کو اگر اُسے کوئی تکلیف ہے تو اس سے آرام ملے گا۔

  اگر آپ کوٹیسٹ کے اثرات کے بارےمیں کوئی سوالات ہوں، براہ کرم ٹیکنالوجسٹ سے معلوم کریں۔ اگر آپ کا بچہ 24 گھنٹوں سے زائد بے آرام رہتا ہے تو اپنے فیملی ڈاکٹر کو کال کریں۔

  کلیدی نکات

  (VCUG) ایک ٹیسٹ ہے جو ایکسریز کو استعمال کرتا ہے تا کہ یہ معلوم کیا جائے جب آپ کا بچہ پیشاب کرتا ہو تو کیا ہوتا ہے۔

  ٹیسٹ کے دوران بچے کو پیشاب کی نلکی اُس کے یوریتھرا میں لگائی جائے گی۔

  ٹیسٹ تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ آپ اپنے بچے کو ٹیسٹ سے پہلے گھر پر جس قدر ممکن ہے آرام دہ کرنے جیسے کہ پُر سکون ہونے کی مشقیں کروا سکتے ہیں۔ مزید سوالات اور جوابات حاصل کرنے کے لیے نور ہیلتھ زندگی کے ساتھ ای میل اور واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ noormedlife@gmail.com

Leave a Comment

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s